مسیحی انفاس — Page 530
پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا جانور جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور عمل الترب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جاوے وہ در حقیقت زندہ نہیں ہو تا بلکہ بدستور بے جان اور جہاد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی بارود کی طرح اس کو جنبش میں لاتی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا اس ثبوت پرواز کرنا قرآن شریف سے ہر گز ثابت نہیں ہو تا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بیائیہ نہیں پہنچتا اور نہ در حقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہئے که سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جہاد میں ڈال دینا در حقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج، مبروص، مدقوق و غیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔ جن ہوتے رہے ہیں۔ جن لوگوں کے معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی و سہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گذرے ہیں کہ صد با بیماروں کو اپنے یمین ویسار بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پر ہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گوالیس کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہر گز زندہ نہ ہو سکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۵۳۰