مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 516 of 632

مسیحی انفاس — Page 516

۵۱۶ مردہ زندہ کرنا فرضی مجربات کے ساتھ جس قدر حضرت عیسی علیہ السلام متہم کئے گئے ہیں اس کی نظیر کسی اور نبی میں نہیں پائی جاتی۔ یہاں تک کہ بعض جلال خیال کرتے ہیں کہ اور نبی حضرت عیسی علیہ السّلام نے ہزاروں بلکہ لاکھوں مردے زندہ کر ڈالے تھے یہاں تک کہ انجیلوں میں بھی یہ مبالغہ آمیز باتیں لکھتی ہیں کہ ایک مرتبہ تمام گورستان جو ہزاروں برسوں سے چلا آتا تھا سب کا سب زندہ ہو گیا تھا اور تمام مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے۔ اب عقلمند قیاس کر سکتا ہے کہ باوجودیکہ کروڑہا انسان زندہ ہو کر شہر میں آگئے اور اپنے بیٹوں پوتوں کو آکر تمام قصے سنائے اور حضرت عیسی علیہ السّلام کی سچائی کی تصدیق کی مگر پھر بھی یہودی ایمان نہ لائے اور اس درجہ کی سنگدلی کو کون باور کرے گا۔ اور در حقیقت اگر ہزاروں مردے زندہ کرنا حضرت عیسی کا پیشہ تھا تو جیسا کہ عقل کے رو سے سمجھا جاتا ہے وہ تمام مردے بہرے اور گونگے تو نہیں ہوں گے۔ اور جن لوگوں کو ایسے معجزات دکھلائے جاتے تھے کوئی ان مردوں میں سے ان کا بھائی ہو گا اور کوئی باپ اور کوئی بیٹا اور کوئی ماں اور کوئی دادی اور کوئی دادا اور کوئی دوسرا قریبی اور عزیز رشتہ دار ۔ اس لئے حضرت عیسی علیہ السّلام کے لئے تو کافروں کو مومن بنانے کی ایک وسیع راہ کھل گئی تھی۔ کئی مردے یہودیوں کے رشتہ داران کے ساتھ ساتھ پھرتے ہوں گے۔ اور حضرت عیسی علیہ السّلام نے کئی شہروں میں ان کے لیکچر دلائے ہوں گے۔ ایسے لیکچر نہایت پر بہار اور شوق انگیز ہوتے ہوں گے جب ایک مردہ گھڑا ہو کر حاضرین کو سناتا ہو گا کہ اے حاضرین ! آپ لوگوں میں بہت ایسے اس وقت موجود ہیں جو مجھ جو مجھے شناخت کرتے ہیں جنہوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے دفن کیا تھا۔ اب میں خدا کے منہ سے سن کر آیا ہوں کہ عیسی مسیح سچا ہے اور اس نے مجھے زندہ کیا تو عجب لطف ہوتا ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے مردوں کے لیکچروں سے یہودی قوم کے لوگوں کے دلوں پر بڑے بڑے اثر ہوتے ہوں گے اور ہزاروں لاکھوں یہودی ایمان لاتے ہوں گے ۔ پر قرآن شریف اور ہوں کہے اور ہزاروں یہودی ایمان لاتے ہوں اس کے پر انجیل سے ثابت ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو رد کر دیا تھا۔ اور اصلاح مخلوق میں تمام نبیوں سے ان کا گر ا ہوا نمبر تھا اور تقریبا تمام یہودی ان کو ایک مکار اور کاذب خیال کرتے تھے۔ اب عقلمند سوچے کہ کیا ایسے بزرگ اور فوق العادت معجزات کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے