مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 632

مسیحی انفاس — Page 486

۴۸۶ کیا حضرت مسیح نے مردوں کو زندہ کیا ؟ تو جنگ بدر کی فتح ۔ دوسرے روم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کی۔ منتر جنت بھی سلب امراض ہی ہے مگر بڑا خبیث کام ہے اس لئے اسلام میں اس کی ری مگر لئے بجائے دار توقع کا حکم دیا گیا ہے۔ اور صرف روحانی امراض کے لئے سلب رکھا گیا گیا ہے ۔ جیسے قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّنها حضرت مسیح تو روحانی امراض کا سلب نہ کر سکے اس لئے گالیاں دیئے چلے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلب امراض کا نمونہ صحابہ ہیں۔ تبدیه ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحه ۱۱۱ بمراد ازالہ و ہم نور افشال ۱۳ ر اکتوبر ۱۸۹۲ء انجیل یوحنا ا ا باب ۲۔ آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ قول لکھا ہے کہ قیامت اور زندگی میں ہی ہوں جو مجھ پر ایمان لاوے اگر چہ وہ مر گیا ہو تو بھی جئے گا۔ یعنی اور جو مجھ پر اگرچہ وہ مر گناہ اور نافرمانی اور غفلت اور کفر کی موت سے نجات پاکر اطاعت الہی کی روحانی زندگی حاصل کرلے گا۔ انجیل کے اس فقرہ پر ایڈیٹر نور افشاں نے اپنے پرچہ ۱۳ راکتوبر ۱۸۹۲ء میں کم فہمی کی راہ سے لکھا ہے کہ آدم سے تا ایں دم کوئی شخص دنیا کی تو ریخ میں ایسا نہیں ہوا جس نے ایسا بھاری دعوی کیا ہو اور اپنے حق میں ایسے الفاظ استعمال کئے ہوں وا نے ایسا کیا ہو اور کہ قیامت اور زندگی میں ہوں اور اگر کوئی ایسا کہتا تو اس کے مطابق ثابت کر دینا غیر ممکن یاست اور زندگی میں ہوں اور اگر کوئی ایسا کہ ہوتا ۔ لیکن خداوند مسیح نے جیسا دعوی اپنے حق میں کیا ویسا ہی اس کو ثابت بھی کر دکھلایا۔ فقط ایڈیٹر صاحب کا یہ مقولہ جس قدر راستی اور صداقت سے دور ہے کسی حقیقت شناس پر مخفی نہیں رہ سکتا۔ واقعی امر یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام ایساد علوی کرتے کہ زندگی اور قیامت میں ہوں ۔ تو چونکہ وہ نیچے نبی تھے۔ اس لئے ضرور تھا کہ اس دعوی کی سچائی ظاہر ہو جاتی۔ اور حضرت مسیح کی زندگی میں اور بعد ان کے روحانی حیات دنیا میں بذریعہ ان کے پھیل جاتی۔ لیکن جس قدر حضرت مسیح الہی صداقت اور ربانی توحید کے پھیلانے سے ناکام رہے شاید اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات میں بہت ہی کم