مسیحی انفاس — Page 359
۳۵۹ چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۷، ۳۵۸ ۲۴۱ نشانیوں سے بے بہرہ ہیں۔اس بات پر عیسائیوں کو بھی نہایت توجہ سے غور کرنی چاہئے کہ خدائے بے مثل و مانیند اور کامل کی کلام میں کن کن نشانیوں کا ہونا ضروری ہے۔کیونکہ ان کی انجیل بوجہ محرف اور مبدل ہو جانے کے ان نشانیوں سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے۔بلکہ الہی نشان تو یک طرف رہے معمولی راستے اور صداقت بھی کہ جو ایک منصف اور دانشمند متکلم کے کلام میں ہونی چاہئے انجیل کو نصیب نہیں۔کم بخت مخلوق پرستوں نے خدا اپاچیل اٹلی کام کی کے کلام کو ، خدا کی ہدایت کو ، خدا کے نور کو اپنے ظلمانی خیالات سے ایسا ملا دیا کہ اب وہ کتاب بجائے رہبری کے رہزنی کا ایک پکا ذریعہ ہے۔ایک عالم کو کس نے توحید سے برگشتہ کیا ؟ اسی مصنوعی انجیل نے۔ایک دنیا کا خون کس نے کیا؟ انہیں تالیفات اربعہ نے۔جن اعتقادوں کی طرف مخلوق پرست کا نفس امارہ جھکتا گیا اسی طرف ترجمہ کرنے کے وقت ان کے الفاظ بھی جھکتے گئے۔کیونکہ انسان کے الفاظ ہمیشہ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔غرض انجیل کی ہمیشہ کا یا پلٹ کرتے رہنے سے اب وہ کچھ اور ہی چیز ہے۔اور خدا بھی اس کی تعلیم موجودہ کی رو سے وہ اصلی خدا نہیں کہ جو ہمیشہ حدوث اور تولد اور تجسم اور موت سے پاک تھا۔بلکہ انجیل کی تعلیم کے رُو سے عیسائیوں کا خدا ایک نیا خدا ہے۔یاد ہی خدا ہے کہ جس پر بدقسمتی سے مصیبتیں آئیں اور آخری حال اس کا پہلے حال سے جو ازلی اور قدیم تھا بالکل بدل گیا۔اور ہمیشہ قوم اور غیر متبدل رہ کر آخر کار تمام قیومی اس کی خاک میں مل گئی۔ماسوائے اس کے عیسائیوں کے محققین کو خود اقرار ہے کہ ساری انجیل الہامی طور پر نہیں لکھی گئی بلکہ متی وغیرہ نے بہت سی باتیں اس کی لوگوں سے سن سنا کر لکھی ہیں اور لو کا کی انجیل میں تو خود لو کا اقرار کرتا ہے کہ جن لوگوں نے مسیح کو دیکھا تھا ان سے دریافت کر کے میں نے لکھا ہے۔پس اس تقریر میں خود لو کا اقراری ہے کہ اس کی انجیل الہامی نہیں۔کیونکہ الہام کے بعد لوگوں سے پوچھنے کی کیا حاجت تھی۔اسی طرح مرقس کا مسیح کے شاگردوں میں سے ہونا ثابت نہیں۔پھر وہ نبی کیونکر ہوا۔بہر حال چاروں انجیلیں نہ اپنی صحت پر قائم ہیں اور نہ اپنے سب بیان کے رو سے الہامی ہیں۔اور اسی وجہ سے انجیلوں کے واقعات میں طرح طرح کی غلطیاں پڑ گئیں اور کچھ کا کچھ لکھا گیا۔غرض اس بات پر عیسائیوں کے کامل محققین کا اتفاق ہو چکا