مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 191 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 191

191 مقام خاتم انا <mark><mark>شریعت</mark></mark> کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔امام علی القاری علیہ الرحمۃ نے اس عبارت میں آیت خاتم ال<mark>نبی</mark>ین کی رُو سے دو طرح کے <mark>نبی</mark>وں کا آنا منقطع قرار دیا ہے:۔اوّل یہ کہ ایسا بی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جو <mark><mark>شریعت</mark></mark> <mark>محمد</mark>یہ کو منسوخ کرے یعنی <mark>نئی</mark> <mark><mark>شریعت</mark></mark> کے لانے کا مدعی ہو۔دوم یہ کہ ایسا <mark>نبی</mark> بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جو آپ کی امت میں سے نہ ہو۔گویا مستقل <mark>نبی</mark> آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔اس لئے <mark>صاحب</mark>زادہ ابرا ہیم زندہ رہنے کی صورت میں امتی <mark>نبی</mark> ہی ہو سکتے تھے اور اُن کا امتی <mark>نبی</mark> ہونا آیت خاتم ال<mark>نبی</mark>ین کے خلاف نہ ہوتا۔اور آیت خاتم ال<mark>نبی</mark>ین اُن کے اتنی <mark>نبی</mark> ہونے میں روک نہ ہوتی۔کیونکہ خاتم ال<mark>نبی</mark>ین کی آیت صرف تشریعی <mark>نبی</mark> یا امت <mark>محمد</mark>یہ سے باہر کسی <mark>نبی</mark> کے آنے یعنی مستقل <mark>نبی</mark> کے آنے میں روک ہے۔ایک سوال کا جواب اس جگہ ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق <mark>نبی</mark> ہوتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم دیا جا چکا تھا کہ آپ کا یہ فرزند ضرور <mark>نبی</mark> ہے۔چنانچہ امام ابن حجر اہیمی اپنی کتاب ”الفتاوى الحديثية “ میں ایک حدیث نبوی درج فرماتے ہیں:۔