مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 170 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 170

(۱۷۰) مقام خاتم است بھی پہلی پانچ فضیلتوں سے مربوط ہو جاتے ہیں کیونکہ مرتبہ کے لحاظ سے خاتم وہی <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> ہوسکتا ہے جس کی <mark>شریعت</mark> بوجہ اکمل ہونے کے <mark>آخری</mark> ہو۔فاندفع الشک۔چھٹی حدیث مولوی خالد محمود صاحب نے چھٹی حدیث انقطاع نبوت کے ثبوت میں یہ پیش کی ہے:۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ۔“ 66 ( صحیح بخاری جلد ۲ صفحه ۱۰۳۵ بحوالہ عقیدۃ الامۃ صفحه ۴۴) یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی <mark>اللہ</mark> عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم سے صحابہ نے پو چھا۔المبشرات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا۔رویا صالحہ۔مولوی خالد محمود صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے:۔بوت کا کوئی فرد مبشرات کے سوا باقی نہیں۔“ اُن کے اس ترجمہ سے ظاہر ہے کہ المبشرات بھی نبوت کا فرد ہیں جو منقطع نہیں۔ہاں رسولِ کریم صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے عام مؤمنین کے پیش نظر مبشرات کو رؤیا ء صالحہ قرار دیا ہے۔چنانچہ علامہ سندھی، ابن ماجہ کے حواشی میں اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :۔