مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 162 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 162

مقام خاتم انا مولوی خالد محمود <mark>صاحب</mark> لکھتے ہیں:۔قصر <mark><mark>نبوت</mark></mark> میں وہ ا<mark>نبی</mark>اء بھی شامل ہیں جن پر شرائع کا دارومدار ہے اور وہ بھی (جو۔ناقل ) دوسرے ا<mark>نبی</mark>اء کی شرائع کی رونق ہیں یعنی امتی <mark>نبی</mark> کیونکہ حضور نے اُسے جس محل سے تشبیہ دی ہے۔اس کی بھی دونوں چیزوں کا ذکر فرمایا۔مکان کی بنا ( بنی بنیانًا ) اور اس کی تزئین (فاحسنه واجمله ) اور حضور اس ساری تعمیر کی آخری اینٹ ہیں۔اور اس معنے کے لئے آپ نے آخر میں فرمایا میں خاتم ال<mark>نبی</mark>ین ہوں۔“ یہ لکھنے کے بعد نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضور کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی <mark>نبی</mark> نہیں آسکتا۔نہ <mark><mark>شریعت</mark></mark> جدیدہ والا نہ امتی <mark>نبی</mark>۔“ یہ نتیجہ اس لئے باطل ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد <mark>مسیح</mark> موعود کی آمد کی خبر دی ہے۔اور اسے اتنی اور <mark>نبی</mark> قرار دیا ہے۔بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ <mark>نبی</mark> ہیں جن کی آمد پر پوری طرح <mark><mark>شریعت</mark></mark> کی تکمیل ہو گئی ہے لیکن اس عمارت کی نگرانی کے لئے آخری زمانہ میں <mark>مسیح</mark> موعود <mark>نبی</mark> اللہ کا بھیجا جانا مقدر ہوا۔اسی لئے اس حدیث میں تمثیل پہلے <mark>نبی</mark>وں کے لحاظ سے دی گئی ہے۔جس پر مَثَلِيْ وَ مَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِيْ کے الفاظ روشن دلیل ہیں۔اور پہلے گزرے ہوئے تشریعی اور مستقل ا<mark>نبی</mark>اء کے لحاظ سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم ال<mark>نبی</mark>ین بمعنی آخری اینٹ قرار دیا گیا ہے۔لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع اور مستقل <mark>نبی</mark> نہیں آسکتا۔اسی لئے امام علی القاری علیہ الرحمۃ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم ال کو خاتم ال<mark>نبی</mark>ین