ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 87

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۷ اس کا جواب جو حضرت نے لکھا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔ جلد نهم السلام علیکم ۔ میرے نزدیک اس سے سود کو کچھ تعلق نہیں ۔ مالک کا اختیار ہے جو چاہے قیمت طلب کرے خاص کر بعد کی وصولی میں ہرج بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے۔ والسلام مرز ا غلام احمد جان کے خوف میں والدین کی فرمانبرداری مدت سے ایک افغان ایک ایسے علاقہ کا رہنے والا جہاں اپنا عقیدہ و ایمان کے اظہار موجب قتل ہو سکتا ہے اس جگہ قادیان میں دینی تعلیم کے حصول کے واسطے آیا ہوا ہے۔حال میں اس کے والدین نے اس کو اپنے وطن میں طلب کیا ہے۔ اب اس کو ایک مشکل پیش آئی کہ اگر وطن کو جائے تو خوف ہے کہ مبادا وہاں کے (لوگ) اس بات سے اطلاع پا کر کہ یہ شخص خونی مہدی اور جہاد کا منکر ہے۔ قتل کے درپے ہوں اور اگر نہ جاوے تو والدین کی نافرمانی ہوتی ہے۔ پس اس نے حضرت سے پوچھا کہ ایسی حالت میں کیا کروں حضرت نے جواب میں فرمایا۔ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته چونکه در قرآن شریف در آن امور که مخالف شریعت نه باشند حکم اطاعت والدین است۔ لہذا بہتر است که این قدر اطاعت کنند که همراه شان روند و آن جا چومحسوس شود که اندیشه قتل یا حبس است بلا توقف باز بیانند چرا که خود را در معرض ہلاک انداختن جائز نیست۔ ہم چنین مخالفت والدین ہم جائز نیست پس در این صورت هر دو حکم قرآن شریف بجا آورده می شود و السلام مرزا غلام احمد ہے ہے ا ( ترجمه از مرتب ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ چونکہ قرآن شریف میں ان امور میں جو شریعت کے مخالف نہ ہوں والدین کی اطاعت کا حکم ہے۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ اس قدر اطاعت کریں کہ ان کے ہم راہ ہو جا ئیں اور اس جگہ کہ محسوس ہو جائے کہ قتل یا قید کا اندیشہ ہے بلا توقف باز اور جدا ہو جا ئیں کیونکہ اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا جائز نہیں۔ اسی طرح والدین کی مخالفت بھی جائز نہیں پس اس صورت میں قرآن شریف کے ہر دوا حکام بجالائے جا سکتے ہیں۔ بدر جلد ۶ نمبرے مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۷ صفحه ۴