ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 85

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۵ جلد نهم ۳۱/جنوری ۱۹۰۷ء (بوقت عصر) خطوط کے جواب میں حضور کا طریق حضرت اقدس نماز عصر میں تشریف لائے مفتی صاحب سے فرمایا کہ بعض شکایتیں آتی ہیں کہ خطوں کا جواب نہیں ملتا۔ خطوں کے جواب لکھے جاویں۔ چٹھی رساں واضح ہو کہ حضرت اقدس امام علیہ السلام کے نام جو خطوط آتے ہیں وہ براہِ راست چیٹ حضرت اقدس کو جا کر دیتا ہے اور سب خطوں کو حضرت اقدس خود ملاحظہ فرماتے ہیں۔ اکثر جواب لکھنے کے لیے ہدایتیں کر کے منشی کو سپر دفرماتے ہیں۔ ناسازی طبع نہ ہوا ور فرصت ہو تو بہت کا جواب خود تحریر فرماتے ہیں۔ اے ۹ فروری ۱۹۰۷ ء خط سے سوال پیش ہوا کہ مکان میں میرا پانچ سو روپیہ کا حصہ ہے۔ اس حصہ میں مجھ پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ جواہرات و مکانات پر کوئی زکوۃ نہیں ہے ( بوقت عصر ) طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ اس وقت جو بے وقت بارش متواتر برس رہی ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ اس سے طاعونی کیڑے ہی پرورش پا رہے ہیں ۔ سے الحکم جلد ا ا نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱،۱۰ ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کے بدر سے۔ مکان اور تجارتی مال پر زکوۃ مکان خواہ کتنے ہزار روپے کا ہو اس پر پر زکوۃ نہیں اگر کرایہ پر چلتا ہو تو آمد پر زکوۃ ہے ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے زکوۃ نہیں ۔حضرت عمر ۶ ماہ کے بعد حساب کر لیا کرتے تھے اور روپیہ پر زکوۃ لگائی جاتی تھی ۔" ( بدر جلد ۶ نمبرے مورخہ ۱۴ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۸ ) 66 سے الحکم جلد ا ا نمبر۷ مورخہ ۲۴ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۳