ملفوظات (جلد 9) — Page 73
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۳ جلد نهم ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کو خط لکھا اور فتوی طلب کیا کہ ایک شخص طلاق ایک جلسہ میں نے از حد غصہ کی حالت میں اپنی عورت کو تین دفعہ طلاق دی۔ دلی منشا نہ تھا۔ اب ہر دو پریشان اور اپنے تعلقات کو توڑ نا نہیں چاہتے ۔ حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا ہے۔ فتویٰ یہ ہے کہ جب کوئی ایک ہی جلسہ میں طلاق دے تو یہ طلاق نا جائز ہے اور قرآن کے برخلاف ہے اس لئے رجوع ہو سکتا ہے۔ صرف دوبارہ نکاح ہو جانا چاہیے اور اسی طرح ہم ہمیشہ فتوی دیتے ہیں اور یہی حق ہے۔ والسلام کے ۱۵ جنوری ۱۹۰۷ء فرمایا کہ طاعون کی موت بِالْخِزْي موت ہے۔ نمونیہ جس سے چند گھنٹوں دعوئی اور مذہب میں فیصلہ ہوجائے طاعون نہیں تو اور کیا ہے؟ مولوی محمد حسین کا ذکر آیا کہ وہ رجوع کیوں کر کرے گا ؟ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل بات نہیں ۔ وہ جب چاہے دل کو پھیر دے ۔ وہ اگر غور کرے تو اس کے لیے یہی ایک نشان کافی ہے کہ براہین احمدیہ کے ریویو کے زمانے میں میں اکیلا تھا اور اب يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔ باقی رہے عقائد سوان میں تو کوئی اتنا بڑا فرق نہیں۔ صرف سمجھ کا پھیر ہے۔ پہلے لیجئے وفات مسیح کو ۔ سو اس مسئلہ میں خودان کے اپنے علماء کے مختلف اقوال ہیں ۔ پس ہمیں ایک قول کو ترجیح دینے سے یہ کیوں کر بُرا کہہ سکتے ہیں ۔ تَوَفَّيْتَنِی کے معنوں میں جھگڑا ہے۔ مگر میرے نزدیک تو جو معنے کریں ہمارا مطلب حاصل ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے اگر یہ معنے ہوں کہ جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان کا نگران حال تھا۔ اس صورت میں بھی یہ ظاہر ہے کہ آپ دوبارہ دنیا میں تشریف نہیں لائے ۔ ورنہ یہ حصر نہ کرتے ۔ پھر معراج کولو۔ ہمارا ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۵ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۴