ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 53

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳ جلد نهم جیو خود بخود ہیں اور وہ انادی ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے ان کو پیدا ہی نہیں کیا ۔ جب وہ پیدا شدہ ہی نہیں ہیں تو اپنے پیدا کرنے والے پر دلیل کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اسی طرح پر ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ذرات جن کو اجسام کہتے ہیں یہ بھی خود بخود ہیں۔ پرمیشر کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ان کو جوڑ جاڑ دیتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جب وہ عظیم الشان کام خود بخود ہیں تو جوڑ نے جاڑنے کے لیے اس کی کیا حاجت ہے وہ بھی خود بخود ہو جائے گا۔ اس لیے آریوں کے عقیدہ کے موافق پر میشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں ۔ اگر ان سے پوچھا جاوے کہ پرمیشر کے وجود پر کیا دلیل ہے؟ تو جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں۔ نہایت کار روہ یہ کہیں گے کہ وہ ارواح اور مواد کو جوڑتا جاڑتا ہے۔ سو یہ کچی اور بیہودہ بات ہے۔ کوئی عقلمند انسان اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا ۔ اسلام کے نزدیک خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت بر خلاف اس کے اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کوئی چیز خود بخود نہیں خواہ وہ ارواح یا اجسام ہوں، سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ ہر چیز کا مبدء فیض اور سر چشمہ وہی ہے۔ اس لحاظ سے اس کے مصنوعات پر نظر کر کے ہم اس کو پہچان سکتے ہیں۔ پس یہ دلیل اگر کام دے سکتی ہے اور مفید ہو سکتی ہے تو مسلمانوں کے لیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنی ہی معرفت مسلمانوں کو نہیں دی بلکہ اپنی شناخت اور معرفت کے اور بہت سے نشانات ان کو دیئے ہیں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے لَهُم الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (یونس : ۶۵) اور پھر فرماتا ہے اِإِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ ( حم السجدة: ٣١) یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر انہوں نے استقامت دکھائی اور کوئی مشکل اور مصیبت انہیں اس اقرار سے پھرا نہیں سکی ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔ یہ بڑا بھاری طریق ہے خدا کو پہچاننے کا۔ اس سے وہ یقین پیدا ہوتا ہے جو انسان کو نجات کا وارث بنا دیتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین پیدا ہو جاوے تو انسان کی زندگی میں ایک معجز نما تبدیلی ہوتی ہے وہ گناہ آلود زندگی سے نکل آتا ہے اور پاکیزگی اور طہارت کا جامہ پہن لیتا ہے اور یہی نجات ہے جو اس کو گناہ سے بچایا بچالیتی ہے۔ اس کے