ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 40

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۔ جلد نهم اور ان کی کامل اتباع ہی سے نجات ملتی ہے۔ کوئی وارنٹ گرفتاری کا گورنمنٹ کی طرف سے جاری نہیں ہوا۔ اور نہیں پوچھا گیا کہ تم اپنے مذہب کی اشاعت کیوں کرتے ہو؟ پھر بتاؤ کہ ہم اگر اس کی اس آزادی اور امن کے لیے اس کی تعریف کریں اور اس کے لیے شکر گزاری کا جوش ظاہر کریں تو یہ خوشامد ہو سکتی ہے؟ یہ تو امر واقعہ کا اظہار ہے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو میں یقیناً کہتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت گنہگار ہے۔ میں نے خوب غور کیا ہے اور تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اس قوم کی فطرت میں ہے کہ باوجود یکہ ہم نے عیسائی مذہب کی غلطیوں اور کمزوریوں کو سخت سے سخت طریق سے ظاہر کیا ہے مگر اس نے یہ سمجھ کر جو آزادی اس نے عیسائیوں کو دی ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کا رڈ کریں اور اپنے دین کی اشاعت کریں اس کے سایہ (میں) ہونے کی وجہ سے ویسے ہی حقدار ہیں اور ان کے فطرتی انصاف نے اس مساوات کو توڑنے کا ارادہ نہیں کیا۔ ہر ایک کو اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے پوری آزادی دی ہے بلکہ اس سے بھی عجیب تر یہ بات ہے کہ جب ایک جنٹلمین پادری نے مجھ پر اقدام قتل کا مقدمہ کیا تو گورنمنٹ نے اپنے انصاف کا کامل نمونہ دکھایا۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی کینہ ہوتا تو یہ عمدہ موقع تھا کہ ہمیں دکھ دیا جاتا۔ لیکن میں دیکھتا تھا کہ کوئی رعایت اس جنٹلمین پادری کی میرے مقابلہ میں نہیں کی جاتی تھی۔ صاحب ضلع مجھے مجھے عزت سے بُلاتے تھے اور کرسی دیتے رہے ۔ انجام کا رجب انہیں بخوبی معلوم ہو گیا کہ وہ مقدمہ محض شرارت سے مجھ پر بنایا گیا ہے اور سراسر جھوٹا ہے تو اس نے کہا کہ یہ بدذاتی مجھ سے نہیں ہو سکتی کہ سزا دے دوں۔ چنانچہ اس نے عزت کے ساتھ مجھے بری کیا ۔ اے اور یہ بات مجھ سے ہی خاص نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں حقوق حاصل ہیں ۔ اگر ہمیں یہ تجربہ ذاتی بھی نہ ہوتا تو بھی ہم شکر گزاری کے لیے بہت سے سامان پاتے ہیں اور علاوہ بریں یہ بات لہ بدر سے۔ میں نے سنا ہے کہ اس کے پاس میرے برخلاف سفارشیں کی گئیں تو اس نے جواب دیا کہ مجھ سے ایسی بدذاتی نہیں ہو سکتی کہ میں ایک شریف آدمی کو بے گناہ سزا دوں ۔ پس اس نے مجھے عزت کے ساتھ بری کیا اور ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۸) عدالت میں مجھے مبارکباد کہی ۔“ 66