ملفوظات (جلد 9) — Page 30
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد نهم ہر سننے والے کو متنبہ اور آگاہ کرتا ہوں کہ تو بہ کرو۔ ہر شخص جو عذاب سے پہلے تو بہ کرتا ہے اور اپنی اصلاح کے لیے تبدیلی کر لیتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رحم کا امید وار ہو سکتا ہے لیکن جب عذاب نازل ہو گیا پھر توبہ کا دروازہ بند ہوگا ۔ اس وقت جو امن کی حالت ہے تو بہ کرو اور اصلاح کے لیے قدم بڑھاؤ۔ میری باتوں کو اس طرح مت سنو جس طرح پر لڑ کے کہانیاں سنا کرتے ہیں ۔ اٹھو اور تبدیلیاں کرو۔ جب مصیبت آگئی پھر خواہ کوئی ہزار کہے کہ دعا کرو کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عذاب تو آچکا۔ ہاں اب وقت ہے۔ کے ذرائع تبدیلی اور اصلاح کس طرح ہو؟ اس کا جواب وہی ہے کہ نماز سے جو اصلاح کے ذر اصل دعا ہے۔ قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بہ بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اُس زمانہ کے حسب حال ہو تو ہو لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قومی کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق یہی بتایا ہے اس لیے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔ پھر تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف روزہ ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم