ملفوظات (جلد 9) — Page 335
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۵ جلد نهم پکڑا جاتا ہے تو کیا خدا کی درگاہ میں جھوٹ کی پرسش نہیں ہو گی ؟ افسوس کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی ذات بابرکات اور صفات کو بٹہ لگایا ۔ قرآن مجید کی توہین کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کی ۔ تمام راستبازوں کی توہین کی ۔ اب ایسے مذہب کو کون قبول کرے؟ ایسی باتیں تو وہی بولے گا جس کو خدا کا خوف نہ ہو۔ دوسرا شخص ایسی باتوں کو کب مان سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی بار بار ہم سے پو چھا جاتا ہے کہ تمہارے نبی اور کا رسول ہونے کی و رسول ہونے کی دلیل کیا ہے؟ اول تو ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا دعوئی صرف نبی یا رسول ہونے کا نہیں ہے اور نہ ہم کسی شریعت لانے کے مدعی ہیں ۔ بلکہ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ میں ایک پہلو سے امتی ہوں اور ایک پہلو سے نبی اور وہ نبوت براہ راست نہیں بلکہ امتی ہونے کی کامل برکات نے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض تامہ نے مجھے یہ درجہ نبوت بخشا ہے اور در حقیقت وہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں جو میرے آئینہ صافیہ میں جلوہ نما ہوتی ہے اور پھر یہ بھی یادر ہے کہ میرے پاس بھی اپنی اس قسم کی نبوت کے وہی دلائل ہیں جو سب انبیاء کے پاس ہوتے چلے آئے ہیں۔ بعض انبیاء کے پاس تو صرف ایک دلیل تھی ۔ کہاں لکھا ہے کہ ان کے پاس پچاس یا ساٹھ نشان تھے بلکہ اکثر انبیاء کے لئے نو یا اس سے بھی کم نشان ہوا کرتے تھے لیکن ہم نے تو نہایت اختصار کے ساتھ مارے ساتھ ۱۸۷ نشان حقیقۃ الوحی میں لکھ دیئے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ابھی بڑے بڑے نشانوں کا وعدہ کرتا ہے۔ کم از کم یہ لوگ کچھ مدت کے لیے کف لسان اختیار کرتے اور ہمارے انجام کو دیکھتے ۔ مگر افسوس کہ بغیر کسی یقینی علم اور پختہ دلیل کے ہماری تکفیر اور تکذیب پر آمادہ ہو گئے ۔ حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرآئیل: ۳۷) اور اگر حضرت عیسیٰ کے مرنے پر ان لوگوں کو طیش آتا ہے تو یہ سچی بات ہے کہ وہ مر گئے ہیں اور سب انبیاء مرتے ہی آئے ہیں ۔ آخر یہ لوگ بھی تو مانتے ہیں کہ وہ دوبارہ آکر مریں گے پھر تکفیر کے کیا معنے ؟ کی باقی رہا یہ کہ یہ الزامی جوابات دینے کی وجہ سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ بات بالکل صاف باقی رہا یہ کہ عیسائیوں کو جواب دیتے وقت بعض اوقات