ملفوظات (جلد 9) — Page 324
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۴ جلد نهم خدا کے انبیاء اور اولیاء کے متعلق تو پہلے سے اللہ تعالیٰ کا خاص ارادہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو مقدس رسول بنایا جاوے گا۔ وہی ارادہ الہی ابتدا سے ان کی پیدائش اور تمام امور کو مقدس رکھتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام تو مادر زاد پاک ہوتے ہیں اور شیطان سے دور رکھے جاتے ہیں۔ دنیا میں پیدائش دو قسم کی ہوتی ہے ایک رحمانی اور دوسری شیطانی ۔ خدا تعالیٰ کے تمام نیک بندوں کی پیدائش رحمانی ہوتی ہے۔ شیطان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اور انہیں کے متعلق کہا جاتا کہ رُوح منه ان کا روح خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس میں حضرت عیسی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے خدا تعالیٰ کے تمام نیک بندوں کی روح خدا کی طرف سے آتی ہے۔ علامہ زمخشری کی تعریف فرمایا۔ زمخشری نے بخاری کے حاشیہ میں اس حدیث کے یہ معنے کئے ہیں جو ہم کرتے ہیں ۔ یہ علماء زمخشری کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ مگر ہمارے خیال میں وہ ان علماء سے بہتر اور افضل تھا گو معتزلی تھا مگر اس کے ایمان نے گوارا نہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر داغ لگاوے بلکہ اس کے دل میں اسلامی غیرت اور محبت نے جوش مارا ۔ اصل میں ان لوگوں میں تزکیہ نفس نہیں ہے۔ جب انسان تزکیہ نفس اختیار کرتا ہے تو قرآن شریف کے معانی اور معارف اس پر کھولے جاتے ہیں۔ فرمایا۔ ان علماء نے ایسے عقائد کے ساتھ عیسائیوں کی بہت امداد کی ہے ضرورت مجدد حضرت علی کو خصوصیت کے ساتھ ایسے صفات دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے انسانوں میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں۔ عیسائیوں کو اس سے مددمل جاتی ہے کہ جب تم خود لے الحکم سے ۔ تزکیہ نفس ایک ایسی چیز ہے کہ قرآن مجید کے بہت سے حصہ کی سمجھ اس کے بغیر آہی نہیں سکتی ۔ جن لوگوں کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور جو پاک دل اور مطہر لوگ ہوتے ہیں ان کو بہت سی باتیں خود بخود ہی ایسی سوجھ جایا کرتی ہیں جو کہ قرآن مجید کے منشا کے مطابق ہوتی ہیں اور قرآن مجید خود بخود ہی حل ہوتا جاتا ہے۔“ الحکم جلدا انمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۹)