ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 21

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱ جلد نهم اس کے امن وسکون میں زوال شروع ہو گیا۔ یہ وقت ظہر کی نماز سے مشابہ ہے۔ پھر بعد اس کے جب وہ عدالت میں حاضر ہوا اور بیانات ہونے کے بعد اس پر فرد قرارداد جرم لگ گئی اور شہادت گزر گئی تو اس کی مصیبت اور کرب پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ یہ گو یا عصر کا وقت ہے۔ کیونکہ عصر کی نماز کا وہ وقت ہے جب سورج کی روشنی بہت ہی کم ہو جاوے ۔ یہ عصر کا وقت اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کی عزت و توقیر بہت گھٹ گئی ہے اور اب وہ مجرم قرار پا گیا۔ اس کے بعد مغرب کا وقت آتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور یہ اس وقت سے مشابہ ہے جب حاکم نے اپنا آخری حکم اس کے لیے سنا دیا اور عشاء کا وقت اس سے مشابہ ہے کہ جب وہ جیل میں چلا جاوے۔ سے اور پھر فجر کا وقت وہ ہے جب اس کی رہائی ہو جاوے۔ ان حالات کے ے بدر میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ دو حالت اول زوال سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے انسان اپنے آپ کو غنی سمجھتا ہے اور طاقتور جانتا ہے اور روز روشن کی طرح اس کے تمام امور ایک جلوہ رکھتے ہیں اور ان پر کوئی تاریکی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے آپ کو غیر محتاج کی طرح خیال کرتا ہے اور ایک پوری راحت اور آرام کی صورت میں اپنے آپ کو دیکھتا ہے اچانک اس پر ایک وقت آتا ہے کہ وہ زوال کے ساتھ ایک مشابہت رکھتا ہے وہ ابتداء مصیبت کا وقت ہوتا ہے اور دکھ، درد اور محتاجی کا احساس شروع ہوتا ہے۔ قبل ازیں اس کو معلوم نہ تھا کہ مجھ پر ایسا وقت آنے والا ہے۔ اچانک بیٹھے بیٹھے یہ حالت شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے اچانک کسی کے پاس گورنمنٹ کی طرف سے وارنٹ آتا ہے اور کسی جرم پر جواب طلبی کی جاتی ہے۔ یہ مصیبت کا پہلا مرحلہ ہے اور نماز ظہر کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ چونکہ انسان کی راحت اور جمعیت میں ایک زوال آگیا ہے۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۲) ے بدر سے ۔ اور اس کے نور کی روح کھینچ لی گئی ہے۔“ (بدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۳) سے بدر سے ۔ کیونکہ تمام روشنی جاتی رہی اور چاروں طرف سے اس پر تاریکی چھا گئی اور وہ قید خانے میں پڑا ہے۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۳ ) 66 کے بدر سے ۔ اس لمبی تاریکی کے بعد پھر فجر کا وقت آتا ہے جبکہ وہ قید خانہ سے رہائی پانے لگتا ہے اور دوبارہ اس پر روشنی کا پر تو پڑتا ہے اور اس کے اردگر دنور چمکتا ہے۔ یہ پانچ اوقات انسان کے حال پر لازم رکھے گئے ہیں اور ان