ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 283

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۳ جلد نهم ایک دفعہ چند آریہ ہندو ہمارے پاس آئے تھے اور کہنے لگے کہ ہمیں بھی سچی خوا ہیں آتی ہیں۔ میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ ہم تو مانتے ہیں کہ چوہڑوں اور چماروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی ہیں ۔ اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ جس کو سچی خواب آوے اس کی عملی حالت بھی بڑی اعلیٰ ہے اور اس کا دل بڑا پاک ہے بلکہ یہ تو کارخانہء نبوت کو سمجھنے کے لیے ہر ایک کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ رکھا ہے۔ فرمایا۔ مبارک احمد کی نسبت جو کچھ قبل از وقت لکھا مرزا مبارک احمد کی وفات کا نشان گیا تھا اور پھر اس کی والدہ کی نسبت خاص طور پر الہام ہونا کہ ” ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر اور پھر چار دفعہ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ 66 و 66 عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، اور پھر لائف آف پین یعنی تلخ زندگی ۔ اگر یکجائی طور پر ایک دشمن بھی دیکھے تو بجز اس کے کچھ بھی جواب نہیں دے سکے گا کہ خدا کا ایک نشان ظہور میں آیا ہے۔ ہاں اگر بے حیائی اور شرارت سے کام لے تو اور بات ہے۔ چاہیے کہ منہاج نبوت سے پرکھا جاوے۔ یا کم از کم عقل کے رو سے ہی سہی کہ اتنے بچے تھے اور صرف مبارک کی نسبت ایسا لکھا گیا۔ کیا کوئی انسان عقل سے ایسا کر سکتا ہے؟ موت فوت کی خبر دینا یہ خدا کے سوا کسی اور کا کام نہیں خدا کا فضل ہے جو سب کچھ پہلے ہی ظاہر کر دیا گیا تھا۔ اگر اب کہتے تو کون مانتا ۔ سوچنا چاہیے کہ آیا جو کچھ وفات سے پہلے ظاہر کیا گیا ہے وہ وفات بتلا رہا ہے یا زندگی ؟انی اسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَأُصِيبُهُ “ تو مبارک کی ولادت سے بھی پہلے کہا گیا تھا۔ خدا تعالیٰ تو صاف فرما تا 66 ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ (الجن : ۲۸،۲۷) ۔ ایک الہام فرمایا۔ کل ذراسی مجھے غنودگی ہوئی تو الہام ہوا جس کا اتنا حصہ یاد رہا کہ انی مُبَارَك “ اس کے معنے بہت ہیں ۔ جیسے اِن شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ( الكوثر : ۴) ہے۔ ویسے ہی یہ ہے۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۳