ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 276

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۶ جلد نهم ۲۰ ستمبر ۱۹۰۷ ء ( بوقت سیر ) وو الدار کی حفاظت کا الہی وعدہ فرمایا۔ آج رات کو پھر الہام ہوا کہ ان احافظ گل 66 مَنْ فِي الدَّارِ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال یا دوسرے سال شدت سے طاعون پڑے گی ۔ گو بڑے بڑے انتظام ہو رہے ہیں کہ کسی طرح طاعون دور ہو مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان تدابیر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر تک بھی نہیں کیا جاتا۔ ہم نے مانا کہ قواعد بھی ہیں۔ طبیب اور ڈاکٹر بھی ہیں۔ انتظام بھی ہیں ۔ مگر یہ تو بڑی بے ادبی کی بات ہے کہ اصلی اور حقیقی محافظ کا اشارہ تک نہیں کیا جاتا۔ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون، ہیضہ یا کوئی اور وبائی امراض پھیلنے والے ہیں اور اللہ کریم وعدہ فرماتا ہے کہ ابي أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ اور اخبار روزانہ میں جو میری نسبت پیشگوئی کی گئی ہے کہ طاعون سے ہلاک ہو جاؤں گا اس کا جواب اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار ۔ ہماری طرف سے تو بالکل خاموشی تھی مگر خدا تو سمیع علیم ہے۔ حضور کے خلاف پیشگوئیوں کی حقیقت پیشگوئی میں جولکھا ہے کہ میں ( ہلاک ) ہو جاؤں گا اور میری جماعت پاش پاش ہو جاوے گی خدا اس کا جواب دیتا ہے کہ میں ہر ایک کی جو تیرے گھر میں ہو گا حفاظت کروں گا۔ ہمیں تو شک پڑتا ہے کہ کرامت علی بھی کہیں فرضی نام نہ ہو ورنہ مسلمان ہو کر اسلام پر ہنسی ٹھٹھا کرنا کچھ تعجب ہی آتا ہے۔ ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ جو پیشگوئی کی گئی ہے آیا کسی الہام کی بنا پر کی گئی ہے یا فرضی طور پر ہنسی ٹھٹھے سے کام لیا گیا ہے ۔ اگر خدا نے بتلائی ہے تو پھر اس وحی اور الہام کو بھی شائع کیا جاوے ور نہ یوں تو یہاں اچھر نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا۔ اپنے ارادوں پر تو ہر ایک نے مرنا ہی ہے۔ ایسے فضول دعووں پر ہم تو جہ نہیں کیا کرتے۔ چاہیے کہ ہمارے مقابلہ لے یہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ غالباً عبارت یوں ہوگی ۔ اپنے ارادوں پر تو ہر ایک نے مرنا نہیں ہے۔“ (مرتب)