ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 259

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۹ جلد نهم جاویں گے۔ اس جہان کی دیوار کچی ہے اور وہ بھی گرتی جاتی ہے سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہاں سے انسان نے لے ہی کیا جانا ہے اور پھر انسان کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ کب جانا ہے۔ جب جائے گا بھی تو بے وقت جائے گا اور پھر خالی ہاتھ جائے گا۔ ہاں اگر کسی کے پاس اعمال صالحہ ہوں تو وہ ساتھ ہی جائیں گے۔ بعض آدمی مرنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں میرا اسباب دکھا دو اور ایسے وقت میں مال و دولت کی فکر پڑ جاتی ہے۔ ہماری جماعت کے لوگ بھی اس طرح کے ابھی بہت ہیں جو شرطی طور پر خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ بعض لوگ خطوں میں لکھتے ہیں کہ اگر ہمیں اتنا رو پیدل جاوے یا ہمارا یہ کام ہو جاوے تو ہم بیعت کر لیں گے۔ بیوقوف اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا کو تمہاری بیعت کی ضرورت کیا ہے۔ ہماری جماعت کا ایمان تو صحابہ والا چاہیے جنہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں کٹوا دیئے تھے۔ دووررم - اگر آج ہماری جماعت کو یورپ اور امریکہ میں اشاعت اسلام کے لیے جانے کو کہا جاوے تو اکثر یہی کہہ دیں گے جی ہمارے بال بچوں کو تکلیف ہوگی ۔ ہمارے گھروں کا ایسا حال ہے۔ یہ ہے وہ ہے ۔ إِنَّ بُيُوتَنا عورة (الاحزاب : (۱۴) اور ہم نے یہ تو نہیں کہنا کہ جا کر سر کٹوائیں بلکہ یہی ہے کہ دین کے لیے سفر کی تکالیف اور صدمے اٹھا دیں مگر اکثر یہی کہہ دیں گے۔ جی گرمی بہت ہے زیادہ تکلیف کا اندیشہ ہے مگر خدا کہتا ہے کہ جہنم کی گرمی اس سے بھی زیادہ ہوگی ۔ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حرا (التوبة: ۸۱) صحابہؓ کا نمونہ مسلمان بننے کے لیے پکا نمونہ ہے۔ ابھی تو جماعت پر مجھے یہ بھی اطمینان نہیں کہ اس کا نام میں جماعت رکھوں ۔ ابھی تو یہ حشو ہے۔ ایسا انسان تو ہمیں نہیں چاہیے جو صرف خوشی میں ہی خدا کو پکارے۔ ایسے شخص پر تو ذرا خدا کا امتحان آیا اور طرح طرح کی مایوسیاں اور بے امید یاں ظاہر کرنی شروع کر دیں ۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت: (۳) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف اتنا کہہ دینے سے ہی کہ ہم ایمان لائے چھوٹ جائیں گے اور ان کا امتحان نہ لیا جاوے گا۔ امتحان کا ہونا تو ضروری ہے اور امتحان بڑی چیز ہے۔ سب پیغمبروں نے امتحان سے ہی درجے پائے ہیں ۔ یہ زندگی