ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 222

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۲ جلد نهم جاوے۔ اتنے نشانات ہیں کسی کی نظیر تو پیش کریں اور نشان جانے دوان سے کوئی پوچھے کہ چھیں ستائیس سال ہمیں دعوی کئے گزر گئے اور ہزاروں نشانات ہماری تائید میں ظاہر ہوئے ۔ کسی ایسے جھوٹے کی نظیر تو پیش کرو جس نے خدا پر افترا کیا ہو اور اتنی مہلت اور نشانات اس کی تائید میں دکھائے گئے ہوں ۔ خدا نے اس کے مخالف ہلاک ، تباہ اور ذلیل کر دیتے ہوں ۔ حالانکہ خدا جانتا تھا کہ وہ مفتری ہے۔ بھلا کوئی نظیر تو دو۔ سنت اللہ اسی طرح سے ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے تو عبد الحکیم وغیرہ کی طرح بعض لوگ الہام کے دعویدار بن بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی رسول ہیں۔ مگر ایسے دعوی کرنے والے ہمیشہ بعد میں ہوتے ہیں۔ دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ کر لیا اور اس کی اچھی طرح سے شہرت ہو گئی تب مسیلمہ کذاب وغیرہ نے بھی دعویٰ کر دیا۔ ایسا ہی ہمیں بھی چھبیس ستائیس برس دعوی کئے گزر گئے تو ان لوگوں کو بھی دعوے یاد آ گئے ۔ مگر یاد رکھو کہ سچے کی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ سب سے پہلے دعویٰ کرتا ہے وہ سچے مدعی کی نشانی کسی کی ریس نہیں کرتا۔ ابو سفیان وغیرہ جب کفر کے زمانہ میں قیصر کے پاس گئے تو اس نے ان سے یہی پوچھا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پہلے بھی کسی نے دعوی کیا ہوا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ تب اس نے کہا کہ اگر اس سے پہلے کوئی دعویٰ کرنے والا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ ریس کرتا ہے۔ ابتداء دعوی کرنا یہ سچے کی شناخت پر ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔ دیکھو چھیں ستائیس برس گزر چکے ہیں۔ اس عرصہ میں تو ایک بچہ بھی پیدا ہو کر باپ بن سکتا ہے۔ ۱۷ اگست ۱۹۰۷ء (بوقت عصر ) عصر ) نئے نشانات کا ظہور حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آج رات کے دو بجے الہام ہوا تھا انَّ خَبَرَ رَسُولِ اللهِ وَاقِع جس الحکم جلد ا ا نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۷ صفحه ۱۱