ملفوظات (جلد 9) — Page 214
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۴ جلد نهم اٹھائے مگر اپنے ایمان پر قائم رہے ۔ جب سردار فضل حق صاحب مسلمان ہوئے تو ان کو قتل کرنے کے واسطے کئی سکھ یہاں تک آئے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو بچایا اور سردار صاحب نے کسی کا خوف نہ کیا۔ ایسا ہی شیخ عبدالرحیم کے چہرے سے نیک بختی کے آثار نمایاں ہیں ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب کو ایک دفعہ ان کے رشتہ دار دھو کے سے لے گئے تھے اور وہاں لے جا کر ان کو قید کر دیا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ نے ان کو بچالیا اور خود بخود یہاں چلے آئے ۔ برخلاف عیسائیوں کا مذہب عموماً تنخواہ پر ہے۔ اگر آج ان کو موقوف کر دیا جائے تو بس ساتھ ہی ان کی عیسائیت بھی موقوف ہو جائے ۔ امرتسر میں ایک پادری رجب علی تھا۔ وہ کئی مرتبہ مسلمانوں میں آکر ملتا تھا۔ پھر عیسائی ہو جاتا تھا۔ عیسائی ہونے کی حالت میں اس کا ایک اخبار نکلتا تھا۔ عیسائیوں سے کچھ ناراض تھا۔ ان دنوں میں ایک گرجا پر بجلی گری تھی ۔ اس خبر کو اپنے اخبار میں درج کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ گرجے پر بجلی گرنا دو اسباب سے خالی نہیں ۔ یا تو اس کا یہ سبب ہوا ہے کہ روح القدس کو مصالحہ بہت لگ گیا تھا اور اس نے گرجے پر اتر کر گرجے کو جلا دیا۔ اور اگر یہ سبب نہیں تو پھر یہ سبب ہے کہ میری آہ گرجے پر پڑی ہے اور اس نے گرجا کو جلا دیا ہے۔ اکثر اس قسم کے عیسائی دہریہ اور کمینہ طبع ہوتے ہیں۔ عیسائی مذہب کے کفارہ نے ایسی بے قیدی کردی ہے کہ جو گناہ چاہو کر لوسزا تو یسوع بھگتے گا۔ اسی واسطے ضرب المثل ہو گئی ہے کہ عیسائی باش ہر چہ خواہی کن۔ کیونکہ اگر زنا اور شراب حرام ہے تو پھر کفارے سے فائدہ کیا ؟ کفارے کا یہی تو فائدہ ہے کہ اس نے معافی کی ایک راہ کھول دی ہے۔ اگر عیسائی بھی گناہ کرنے سے پکڑا جاتا ہے جیسا کہ غیر عیسائی پکڑا جاتا ہے تو پھر دونوں میں فرق کیا ہوا ؟ اور کسی کو عیسائی بننے سے فائدہ کیا حاصل ہوا ؟ " لے بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۰۷ صفحه ۸ نیز الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۱۱،۱۰