ملفوظات (جلد 9) — Page 187
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ جلد نهم یہی مطلب ہے کہ خود تمہاری حالت ایسی نہیں رہی کہ خدا تمہاری مدد کرے تو جہاد کیسا ؟ ۲۱ رمتی ۱۹۰۷ ء ہم نے جو کیمیا کو شرک قرار دیا تھا تو اس کا یہ مطلب انسان ہردم خدا تعالیٰ کا محتاج ہے تا کہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان مستغنی ہو اسی لیے فرما یا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ تَرَاهُ اسْتَغْنى (العلق : ۷، ۸ ) وہ فرماتا ہے۔ انسان سرکشی کرتا ہے جبکہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے۔ عبودیت کا الوہیت سے ایسا تعلق ہے کہ عبد اپنے مولا کا ذرہ ذرہ کے لیے محتاج ہے اور ایک دم خدا کے سوا نہیں گزار سکتا ۔ پس جو شخص ایسے اسباب تلاش کرتا ہے جن سے خدا کی طرف توجہ نہ رہے ( اور توجہ مبنی ہے احتیاج پر ) تو گو یا شرک میں پڑتا ہے کیونکہ اپنا قبلہ مقصود ایک کے سوا دوسرا بھی بناتا ہے ۔ مومن تو وہ ہے جو ایسے امور کا نام تک نہ لے جن سے توحید میں رخنہ اندازی ہوتی ہو۔ اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ بیمار اسی وقت تک طبیب کے پاس رہتا ہے جب تک کہ بیمار رہے۔ پس عبد اسی وقت تک متوجہ رہے گا جب تک عبودیت کی حالت باقی رہے۔ دو فریق ہوتے ہیں جن میں مقابلہ ہوتا ہے مگر آخر کا ر فتح وہی پاتے الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ وجب ہیں جن کے ساتھ خدا ہوتا ہے ۔ موسیٰ بظاہر فرعون کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے تھے مگر خدا نے اپنی عجیب در عجیب قدرتوں سے فتح بخشی ۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ یہ مخالف اپنے دوسرے ہلاک شدہ بھائیوں آخری فیصلہ کا وقت سے ذرا بھی عبرت حاصل نہیں کرتے بلکہ ایک بولتا ہے تو دوسرا اس کی تائید کرتا ہے۔ یہ آریہ ہوں یا مسلم یا ہندو یا سکھ۔ ہماری مخالفت میں سب ایک ہو جاتے ہیں (ایک حدیث میں مسیح موعود کا یہ نشان بھی ہے کہ کینہ و بغض باہمی چلا جائے گا اور ایک اور حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے ) ہے حالانکہ یہ صرف اس بات پر تقوی و خدا ترسی کے ساتھ غور کریں کہ چھبیس برس کا الحکم جلد ا ا نمبر ۲۰ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۷ ء صفحه ۴ و بدر جلد ۶ نمبر ۲۳ مورخه ۶ رجون ۱۹۰۷ ء صفحه ۲ ے غالباً یہ نوٹ ڈائری نویس کا ہے۔ واللہ اعلم (مرتب)