ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 173

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ جلد نهم بعض لوگ بظاہر بہت نیک معلوم ہوتے ہیں اور انسان تعجب کرتا ہے کہ اس پر کوئی تکلیف کیوں وارد ہوئی یا کسی نیکی کے حصول سے یہ کیوں محروم رہا لیکن دراصل اس کے مخفی گناہ ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی حالت یہاں تک پہنچائی ہوئی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ بہت معاف کرتا ہے اور درگذر فرما تا ہے۔ اس واسطے انسان کے مخفی گناہوں کا کسی کو پتا نہیں لگتا۔ مگر مخفی گناہ دراصل ظاہر کے گناہوں سے بدتر ہوتے ہیں۔ گناہوں کا حال بھی بیماریوں کی طرح ہے۔ بعض موٹی بیماریاں ہیں ہر ایک شخص دیکھ لیتا ہے کہ فلاں بیمار ہے مگر بعض ایسی مخفی بیماریاں ہیں کہ بسا اوقات مریض کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مجھے کوئی خطرہ دامنگیر ہورہا ہے۔ ایسا ہی تپ دق ہے کہ ابتدا میں اس کا پتا بعض دفعہ طبیب کو بھی نہیں لگتا یہاں تک کہ بیماری خوفناک صورت اختیار کرتی ہے ایسا ہی انسان کے اندرونی اور مخفی گناہ ہیں جو رفتہ رفتہ اسے ہلاکت تک پہنچا دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے رحم کرے ۔ قرآن شریف میں آیا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس : ۱۰) اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔ لیکن تزکیہ نفس بھی ایک موت ہے۔ جب تک کہ کل اخلاق رذیلہ کو ترک نہ کیا جاوے تزکیہ نفس کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ ہر ایک شخص میں کسی نہ کسی شر کا مادہ ہوتا ہے وہ اس کا شیطان ہوتا ہے۔ جب تک کہ اس کو قتل نہ کرے کام نہیں بن سکتا۔ تکبر بڑا گناہ ہے فرمایا۔ سب سے اول آدم نے بھی گناہ کیا تھا ور شیطان نے بھی مگر آدم سب سے اول آدم نے بھی اور ۔ مگر آدم ہ ہے میں تکبر نہ تھا اس لیے خدا تعالیٰ کے حضور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور اس کا گناہ بخشا گیا۔ اسی سے انسان کے واسطے تو بہ کے ساتھ گناہوں کے بخشا جانے کی امید ہے۔ لیکن شیطان نے تکبر کیا اور وہ ملعون ہوا جو چیز کہ انسان میں نہیں ، متکبر آدمی خواہ مخواہ اپنے لیے اس چیز کے دعوے کے واسطے تیار ہو جاتا ہے۔ انبیاء میں بہت سے ہنر ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک ہنر سلب خودی کا ہوتا ہے۔ ان میں خودی نہیں رہتی ۔ وہ اپنے نفس پر ایک موت وارد کر لیتے ہیں کبریائی خدا کے واسطے ہے۔ جو لوگ تکبر نہیں کرتے اور انکساری سے کام لیتے ہیں وہ ضائع نہیں ہوتے۔ ایک شخص کا خط آیا کہ میں آپ کے متعلق استخارہ کرنا چاہتا ہوں استخارہ کا بھی وقت ہوتا ہے کہ آیا آپ حق پر ہیں یا نہیں ۔