ملفوظات (جلد 9) — Page 153
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۳ جلد نهم خدا نے اسے ایسا مسافر بنایا کہ پھر کبھی واپس نہ آیا۔ ایسا ہی وہ تمام لوگ جو مجھے فرعون کہتے تھے، فرعون کہنے والے مرتے جاتے ہیں بلاک ہو گئے محی الدین کھو کے والے نے اپنا الہام شائع کیا تھا کہ مرزا صاحب فرعون ہیں۔ چراغ الدین نے بھی مجھے فرعون لکھا تھا۔ الہی بخش نے بھی مجھے فرعون لکھا ۔ مگر یہ عجیب فرعون ہے کہ پہلا فرعون تو موسیٰ کے مقابلہ میں ہلاک ہو گیا تھا اور یہاں فرعون تو زندہ ہے اور موسیٰ دن بدن ہلاک ہوتے جاتے ہیں ۔ فرمایا۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ نزولِ بلا عموماً رات کے وقت اور بعد مغرب تاریکی پھیلنے کے وقت ہوتا ہے۔ لے نزول بلا کا وقت خدا تعالی کے کے فعل پر اعتراض کرنا گستاخی ہے فرمایا۔ خدا تعالی کے فعل پر اعتراض ہے کرنا بڑی گستاخی ہے۔ یہ لوگ کس گنتی میں ہیں ۔ ایک نبی (یونس ) بھی صرف لَنْ أَرْجِعَ إِلى قَوْمِي كَذَّابًا کہنے سے زیر عتاب ہوا در اصل خدا تعالیٰ کے کسی فعل پر شرح صدر نہ رکھنا بھی ایک مخفی اعتراض ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوتا ہے۔ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ ( القلم : ۴۹) ایسے امور میں مخاطب تو انبیاء ہوتے ہیں مگر در اصل سبق امت کو دینا منظور ہوتا ہے ہمارے بارے میں حق کے فیصلہ کے لیے کس قدر کھلی ہوئی راہ ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی نظیر اگلی امتوں میں موجود نہیں ۔ دیکھو مسیح کی دوبارہ آمد کا مسئلہ ایلیا کی آمد سے کیسا صاف ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس پر دونوں قوموں کا با وجود اختلاف کے اتفاق ہے جیسا مسیح کے صلیب پر چڑھایا جانے کے بارے میں ۔ آتھم جب رجوع والی شرط سے فائدہ اٹھا کر پندرہ ماہ میں نہ مرا تو خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے نے کیا عمدہ جواب دیا کہ بعض اشخاص آسمان پر مر جاتے ہیں اور اللہ کا ولی اس کو مردہ دیکھ لیتا ہے مگر دوسرے عوام الناس اس معرفت تک نہیں پہنچتے اور اعتراض کرتے ہیں ۔ لے بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷