ملفوظات (جلد 9) — Page 123
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۳ جلد نهم کی خدمت میں عرض کیا کہ اس جماعت ( فرقہ احمدیہ ) کا کوئی لڑکا اس سٹرائیک میں شامل نہیں ہوا۔ میاں محمد دین، عبدالغفار وغیرہ سب علیحدہ رہے لیکن عزیز احمد ان طلباء کے ساتھ شریک رہا اور باوجود ہمارے سمجھانے کے باز نہ آیا اور چونکہ بعض اخباروں میں اس قسم کے مضمون نکلے تھے کہ مسیح موعود کا پوتا علی گڑھ کالج میں ہے اس وجہ سے عام طور پر عزیز احمد کا رشتہ حضور کے ساتھ سب کو معلوم ہونے کے سبب وہاں کے اراکین نے اس امر پر تعجب ظاہر کیا کہ عزیز احمد اس مفسدہ میں ایسا حصہ لیتا ہے۔ اس پر حضرت اقدس مرزا صاحب نے فرمایا کہ دو عزیز احمد نے اپنے استادوں اور افسروں کی مخالفت میں مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے لہذا وہ اس دن سے جس دن سے وہ اس بغاوت میں شریک ہے ہماری جماعت سے علیحدہ اور ہماری بیعت سے خارج کیا جاتا ہے۔ ہم ان لڑکوں پر خوش ہیں جنہوں نے اس موقع پر ہماری تعلیم پر عمل کیا۔ بہت سے لوگ بیعت بیعت میں آکر داخل ہو جاتے ہیں لیکن جب وہ شرائط بیعت پر عمل نہیں کرتے تو خود بخود اس سے خارج ہو جاتے ہیں یہی حال عزیز احمد کا تھا۔ اس میں خصوصیت نہ تھی اور یہ امر کہ ہمارا وہ پوتا ہے اس وجہ سے وہ ہمارا رشتہ دار ہے سو واضح ہو کہ ہم ایسے رشتوں کی کوئی پروا نہیں کرتے ۔ ہمارے رشتے سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہیں ۔ عزیز احمد کا باپ خود ہم سے برگشتہ ہے اور ہم اس کو اپنا بیٹا نہیں سمجھتے تو پھر عزیز احمد کا پوتا ہونا کیسا ؟ عزیز احمد کو چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں اوّل ہم سے مشورہ کرتا یا اس مثال کو دیکھتا جو پہلے میڈیکل کالج لاہور میں قائم ہو چکی تھی کہ جب طلباء نے لاہور میں اپنے پروفیسروں کی مخالفت میں سٹرائیک کیا تھا تو جولڑ کے اس جماعت میں داخل تھے ان کو میں نے حکم دیا تھا کہ وہ اس مخالفت میں شامل نہ ہوں اور اپنے استادوں سے معافی مانگ کر فوراً کالج میں داخل ہو جاویں۔ چنانچہ انہوں نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور اپنے کالج میں داخل ہو کر ایک ایسی نیک مثال قائم کی کہ دوسرے طلباء بھی فوراً داخل ہو گئے ۔ عزیز احمد کو اس واقعہ کی خبر ہو گی کیونکہ اخبار میں چھپ چکا تھا۔ اور اگر خبر نہ ہوتی تو اس کے واسطے ضروری تھا کہ اوّل مجھ سے مشورہ کرتا یا اپنے ساتھیوں کے مشورہ پر چلتا ۔ اس کا علی گڑھ میں جانا بھی اس کے باپ کے مشورہ اور حکم سے تھا نہ کہ ہمارا اس