ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 114

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۴ جلد نهم ہمارے اصول عیسائیوں پر ایسے پتھر ہیں کہ وہ ان کا ہرگز جواب نہیں دے سکتے ۔ یہ مولوی لوگ بڑے بد قسمت ہیں جو ترقی اسلام کی راہ روکتے ہیں ۔ عیسائیوں کا تو سارا منصو بہ خود بخودٹوٹ جاتا ہے جبکہ ان کا خدا ہی مر گیا تو پھر باقی کیا رہا ؟ اسلام کے لیے موسم بہار کی آمد اسلام نے بڑے بڑے مصائب کے دن گزارے ہیں ۔ اب اس کا خزاں گذر چکا ہے اور اب اس کے واسطے موسم بہار ہے إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح : ۷ ) تنگی کے بعد فراخی آیا کرتی تنگی کے بعد فراخی آیا کرتی ہے مگر ملاں لوگ نہیں چاہتے کہ اسلام اب بھی سرسبزی اختیار کرے۔ اسلام کی حالت اس وقت اندرونی بیرونی سب خراب ہو چکی ہوئی ہے۔ ظاہری سلطنت اسلامی جو کچھ ہے وہ بھی نہایت ضعف کی حالت میں ہے اور اندرونی حالت یہ ہے کہ ہزاروں گر جاؤں میں جا بیٹھے ہیں اور بہت سے دہر یہ ہو گئے ہیں ۔ جب یہ حالت اسلام کی ہو چکی تو کیا وہ خدا جس کا وعدہ تھا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ (الحجر : ۱۰) ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔ کیا وقت نہیں آیا کہ اب بھی اسلام کی حفاظت کرے؟ فرمایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں کہ چودھویں صدی کا مجدد اس صدی کے مجد کو نہیں مانتے۔ کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہو گا ؟ صدی سے پچیس سال گزر گئے یعنی پورا چوتھا حصہ صدی کا طے ہو گیا ہے۔ اب بتائیں کہ وہ مجد د کون ہے اور کہاں ہے؟ ہم سے پہلے سب لوگ اس مجدد کے منتظر تھے بلکہ صدیق حسن خان کا یہ خیال تھا کہ شاید میں ہی بن جاؤں اور عبدالحی لکھو کے والے کا بھی ایسا ہی خیال تھا ۔ مگر اپنے خیال سے کیا بنتا ہے جب تک خدا کسی کو نہ بنائے کون بن سکتا ہے ۔ جس کو خدا تعالیٰ کسی کام پر مامور کرتا ہے وہ اس کو عمر عطا کرتا ہے۔ اسے اس کے کام کے واسطے توفیق عطا نا ہے۔اس کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے۔ دوسرے لوگ اپنے خیال میں ہی مر کھپ جاتے ہیں اور ان سے کچھ بن نہیں سکتا۔ کوئی جھوٹا تحصیلدار بھی بنے تو دو چار روز کے بعد گرفتار ہو کر جیل خانہ میں