ملفوظات (جلد 9) — Page 108
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۰۱ جلد نهم الهام إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ جب تک خلقت رجوع الی الحق نہ کرے گی یہ بیماری نہ جائے گی ۔ دیکھو! اس سال سب کی رائے یہ بندھی تھی کہ طاعون سے یہ ملک بہت کچھ پاک ہو گیا ہے اور اب عنقریب بالکل صاف ہو جائے گا مگر اس سال پچھلے سالوں سے بڑھ کر حملہ ہوا ہے۔ ایسا حملہ کہ کئی گھرانے تباہ ہو گئے ہیں۔ بعض گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے ۔ وہ جو قرآن مجید میں ہے وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا (بنی اسراءیل : ۵۹) سب کچھ پورا ہو رہا ہے۔ قادیان کے متعلق مجھے الہام ہوا تھا لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ یعنی یہ گاؤں بھی ہلاکت کا مستوجب تھا مگر اکرام کے سبب محفوظ رکھ لیا گیا جس کے متعلق إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ ہے۔ اوی کے معنے تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھے ہیں کہ کسی مصیبت کے بعد پناہ دینا۔ قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ أَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فاوى (الضُّحٰی : ۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے قادیان میں کچھ عذاب طاعون آنا تھا اور پھر اس کے بعد حفاظت ہوگی ۔ شرع میں حیلہ عاجز اکمل نے آیت خُذْ بِيَدِكَ ضِعْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَ لَا تَحْنَثُ (ص:۴۵) کی نسبت پوچھا کہ اگر اس کے وہ معنی کئے جاویں جو عام مفسروں نے کئے ہیں تو شرع میں حیلوں کا باب کھل جائے گا۔ آپ نے فرمایا۔ چونکہ حضرت ایوب کی بیوی بڑی نیک، خدمت گزار تھی اور آپ بھی متقی صابر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور ایسی تدبیر سمجھادی جس سے قسم بھی پوری ہو جائے اور ضرر بھی نہ پہنچے۔ اگر کوئی حیلہ اللہ تعالیٰ سمجھائے تو وہ شرع میں جائز ہے کیونکہ وہ بھی اسی راہ سے آیا جس سے شرع آئی۔ لو اس لیے کوئی ہرج کی بات نہیں ۔ اے لو بدر جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۶