ملفوظات (جلد 9) — Page 105
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۵ جلد نهم آنحضرت کے زمانہ میں اور کچھ دیگر سلاطین کے زمانہ میں ۔ ایک شخص کا قصہ ہے کہ اس نے ایک یہودی کو بہت نصیحت کی کہ تو مسلمان ہو جا۔ اس یہودی نے جواب دیا کہ میں جانتا ہوں کہ اسلام کوئی آسان مذہب نہیں ۔ صرف منہ سے کہہ دینا کوئی بڑی بات نہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ میں نے ایک اپنے بیٹے کا نام خالد رکھا تھا یعنی ہمیشہ رہنے والا اور دوسرے دن کو اس کو گاڑ بھی آیا تھا۔ پس صرف نام رکھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ مگر انسان کا نام رکھا ہوا اگر خطا جاتا ہے تو خدا کا نہیں۔ خدا جس کا نام رکھتا ہے وہی ٹھیک ہوتا ہے۔ در تعبیر ایک دفعہ ہمارے والد صاحب نے ایک خواب دیکھا کہ آسمان سے تاج اترا خواب اور یہ اور انہوں نے فرمایا یہ تاج غلام قادر کے سر پر رکھ دو ( آپ کے بڑے بھائی ) مگر اس کی تعبیر اصل میں ہمارے حق میں تھی جیسا کہ اکثر دفعہ ہو جاتا ہے کہ ایک عزیز کے لیے خواب دیکھو اور وہ دوسرے کے لیے پوری ہو جاتی ہے۔ اور دیکھو کہ غلام قادر تو وہی ہوتا ہے جو قادر کا غلام اپنے آپ کو ثابت بھی کر دے اور انہیں دنوں میں مجھ کو بھی ایسی ہی خوا ہیں آتی تھیں ۔ پس میں دل میں سمجھتا تھا کہ یہ تعبیر الٹی کرتے ہیں۔ اصل میں اس سے میں مراد ہوں۔ سید عبد القادر جیلانی نے بھی لکھا ہے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے کہ اس کا نام عبدالقادر رکھا جاتا ہے جیسا کہ میرا نام بھی خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے عبدالقادر رکھا ہے۔ حقہ نوشی فرمایا کہ انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور بہت سے ایسے حقہ لوس آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے آئے ہیں بڑھاپے میں آکر جبکہ عادت کا چھوڑ نا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہو جاتے ہیں۔ میں حقہ کو منع کہتا اور نہ جائز قرار دیتا ہوں مگر ان صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔ یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پر ہیز کرنا چاہیے۔ بدر جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۰