ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 100

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۰ جلد نهم تحریری جواب دیا جاوے اور زبانی مباحثات مظنہ فساد ہوتے ہیں ۔ قصیدہ اعجاز یہ قاضی ظفر الدین متوفی کے قصیدہ کا ذکر ہوا جو اس نے حضرت کے قصیدہ کے مقابلہ ہوا جو میں بنایا تھا اور اس کو خدا نے اتنی فرصت نہیں دی کہ اس کو شائع کر سکے ۔ اب اس کو ثناء اللہ چھا پتا ہے۔ حضرت نے فرمایا۔ قصیدہ بنانے والا تو اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا اور جہان سے رخصت ہو گیا اور وہ اس کو اپنی زندگی میں بھی شائع نہ کر سکا ۔ ثناء اللہ کو تو اتنی بھی لیاقت نہیں کہ اس کی تصحیح کر سکے۔ ۱۷ فروری ۱۹۰۷ ء حضرت حکیم الامت نے کسی شخص کا مقولہ بیان خدا تعالیٰ کا غضب اور آفات سماوی ہیں ۔ ان کو خدا کے غضب سے کیا تعلق ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ فرمایا کہ وہ کہتا ہے کہ زلزلے بیماریاں آیا ہی کرتی ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم کے منکر ہیں ۔ دہریے ہیں ۔ کیا موسیٰ ، نوح علیہما السلام کے وقت میں یونہی بیماریاں آتی تھیں یا کہ خدا تعالیٰ نے ان کا کوئی سبب بیان فرمایا ہے؟ فرمایا ۔ اس دفعہ طاعون خطرناک شکل پکڑتی جاتی ہے۔ ہمیں تو اس سے خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی اور دنیا کی نا پائیداری اہلِ دنیا پر ثابت ہو رہی ہے۔ خدا را بخدا تواند شناخت ۔ سوفسطائی جو حقیقت اشیاء کے منکر ہیں ان کا جواب یہی لکھا ہے کہ ان کو جب آگ میں ڈالا الحکم جلدا انمبر ۷ مورخہ ۲۴ رفروری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۲