ملفوظات (جلد 9) — Page 93
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۳ پھر حضرت اقدس نے فاضل امروہی سے استفسار فرمایا کہ خطوط سے معلوم ہوتا ہو گا آپ کی طرف بارش زور سے برس رہی ہے یا نہیں؟ مولوی صاحب نے عرض کی کہ اس طرف اتنی بارش نہیں ہے جس قدر اس طرف برس رہی ہے۔ دراس برس پھر حضرت نے بیماری طاعون کا حال پوچھا۔ مولوی صاحب نے عرض کی کہ بیماری اس طرف بہت ہے۔ پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ء جلد نهم مولوی ثناء اللہ امرتسری شاء الل لکھتا ہےکہ سعداللہ کی ذات کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ حالانکہ یہ پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہوگئی ہے حقیقۃ الوحی میں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے متعلق زبردست دلائل لکھے جاویں گے۔ فرمایا۔ ثناء اللہ بہ نسبت محمد حسین بٹالوی کے بدگوئی میں بڑھ گیا ہے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی محمد حسین بٹالوی کا ذکر ہوا۔ فاضل امروہی نے عرض کی کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میں نے ہی ان کو یعنی حضور کو عروج پر چڑھایا تھا اور میں ہی گرادوں گا مگر معاملہ برعکس ہوا۔ ( محمد حسین کے اس چڑہا ؤ وا تار سے مراد پہلے براہین احمدیہ میں ریو یولکھنا اور پھر حضرت اقدس پر تکفیر کا فتوی تیار کرنا اور مولویوں کی مہریں لگانا ہے ) اس جگہ تو يَوْمًا فَيَوْمًا ترقی ہو رہی ہے اور شرق و غرب جگہ کی مخلوق آ پہنچی ہے اور محمد حسین اکیلا و طرید رہ گیا ہے۔ اکثر احباب نے اس کو چھوڑ دیا ہے ایک زمانہ تھا کہ اشاعت السنة سے اس کو تین سو روپیہ تک بچ جاتا تھا۔ اب کوئی اس سے پوچھے کہ کیا حال ہے؟ حضرت نے فرمایا۔ محمد حسین ہمیشہ ہمارے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ پندرہ روز تک بٹالہ میں نہیں ٹھہر سکتا تھا بلکہ ہمارے پاس آ جاتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے متعلق اس کے باپ نے ایک سخت ناگوار اشتہار دینا چاہا تھا اور محمد حسین نے مجھے کہا کہ میرے باپ کو اس امر سے منع کرو۔ چنانچہ ہم نے اس کو اس امر سے روکا تھا۔ میر ناصر نواب صاحب نے خواب بیان کی کہ تھوڑے روز ہوئے میں نے محمد حسین کو خواب میں دیکھا