ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 89

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۹ جلد هشتم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہاری پرورش کرتا ہے۔ اور جو اطاعت الہی میں اس مقام سے ترقی کرے تو احسان کی پابندی سے اطاعت کر ۔ کیونکہ وہ حسن ہے اور اس کے احسانات کو کوئی شمار نہیں کر سکتا ۔ اور چونکہ محسن کے شمائل اور خصائل کو مد نظر رکھنے سے اس کے احسان تازہ رہتے ہیں ۔ اس لئے احسان کا مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ ایسے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ کہ اللہ تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اس مقام تک انسان میں ایک حجاب رہتا ہے لیکن اس کے بعد جو تیسرا درجہ ہے ایتائی ذی القربی کا یعنی اللہ تعالیٰ سے اُسے ذاتی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور حقوق العباد کے پہلو سے میں اس کے معنے پہلے بیان کر چکا ہوں۔ اور یہ بھی میں نے بیان کیا ہے کہ یہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے کسی اور کتاب نے نہیں دی۔ اور ایسی کامل ہے کہ کوئی نظیر اس کی پیش نہیں کر سکتا۔ یعنی جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها الآية (الشوری: ۴۱) اس میں عفو کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ اس میں اصلاح ہو۔ یہودیوں کے مذہب نے تو یہ کیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت الآخرہ ۔ اُن میں انتظامی قوت اس قدر بڑھ گئی تھی اور یہاں تک یہ عادت اُن میں پختہ ہو گئی تھی کہ اگر باپ نے بدلہ نہیں لیا تو بیٹے اور اُس کے پوتے تک کے فرائض میں یہ امر ہوتا تھا کہ وہ بدلہ لے۔ اس وجہ سے اُن میں کینه توزی کی عادت بڑھ گئی تھی۔ اور وہ بہت سنگدل اور بے درد ہو چکے تھے۔ عیسائیوں نے اس تعلیم کے مقابل یہ تعلیم دی کہ ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دو ۔ ایک کوس بیگار لے جاوے تو دوکوس چلے جاؤ وغیرہ ۔ اس تعلیم میں جو نقص ہے وہ ظاہر ہے کہ اس پر عملدرآمد ہی نہیں ہو سکتا۔ اور عیسائی گورنمنٹوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ تعلیم ناقص ہے۔ کیا یہ کسی عیسائی کی جرات ہو سکتی ہے کہ کوئی خبیث طمانچہ مار کر دانت نکال دے تو وہ دوسری گال پھیر دے کہ ہاں اب دوسرا دانت بھی نکال دو۔ وہ خبیث تو اور بھی دلیر ہو جاوے گا۔ اور اس سے امن عامہ میں خلل واقع ہوگا ۔ پھر کیونکر ہم تسلیم کریں کہ یہ تعلیم عمدہ ہے یا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو سکتی ہے اگر اس پر عمل ہو تو کسی ملک کا بھی انتظام نہ ہو سکے ایک ملک ایک دشمن چھین لے تو دوسرا خود حوالہ کرنا