ملفوظات (جلد 8) — Page 86
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۶ جلد هشتم بیان سے عاجز ہے۔ اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے جلیل الشان اور اولوالعزم نبی تھے۔ اگر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت آپ کے ساتھ نہ ہوتی تو ان مشکلات کے پہاڑ کو اٹھانا نا ممکن ہو جاتا۔ اور اگر کوئی اور نبی ہوتا تو وہ بھی رہ جاتا۔ مگر جس اسلام کو ایسی مصیبتوں اور دکھوں کے ساتھ آپ نے پھیلایا تھا آج اس کا جو حال ہو گیا ہے وہ میں کیونکر کہوں؟ اسلام کی حقیقت اور تعلیم اسلام کے منت تو یہ تھے کہ انسان خداکی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جاوے اور جس طرح پر ایک بکری کی گردن قصاب کے آگے ہوتی ہے اس طرح پر مسلمان کی گردن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے لئے رکھ دی جاوے۔ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہی کو وحدہ لاشریک سمجھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وسلم مبعوث ہوئے اس وقت یہ تو حید گم ہوگئی تھی اور یہ دیش آریہ ورت بھی بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ جیسا کہ پنڈت دیانند سرستی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے ۔ ایسی حالت اور ایسے وقت میں ضرور تھا کہ آپ مبعوث ہوتے ۔ اسی کا ہمرنگ یہ زمانہ بھی ہے جس میں بت پرستی کے ساتھ انسان پرستی اور دہریت بھی پھیل گئی ہے اور اسلام کا اصل مقصد اور روح باقی نہیں رہا۔ اس کا مغز تو یہ تھا کہ خدا ہی کی محبت میں فنا ہو جانا اور اس کے سواکسی کو معبود نہ سمجھنا اور مقصد یہ ہے کہ انسان رو بخدا ہو جاوے رو بد نیا نہ رہے۔ اور اس مقصد کے لئے اسلام نے اپنی تعلیم کے دو حصے کئے ہیں ۔ اوّل حقوق اللہ دوم حقوق العباد حق اللہ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے اور حقوق العباد یہ ہے کہ خدا کی مخلوق سے ہمدردی کریں ۔ یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفت مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں ۔ ہمدردی اور سلوک الگ چیز ہے اور مخالفت مذہب دوسری شے ۔ مسلمانوں کا وہ گروہ جو جہاد کی غلطی اور غلط فہمی میں مبتلا ہیں انہوں نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ کفار کا مال ناجائز طور پر لینا بھی درست ہے۔ خود میری نسبت بھی ان لوگوں نے فتویٰ دیا کہ ان کا مال لوٹ لو بلکہ یہاں تک بھی کہ ان کی بیویاں نکال لو حالانکہ اسلام میں اس قسم کی ناپاک تعلیمیں نہ تھیں ۔ وہ تو ایک صاف اور مصفی مذہب تھا۔ اسلام کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ جیسے باپ اپنے حقوق ابوت کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چاہتا ہے کہ اولاد میں ایک دوسرے کے