ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 82

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۲ جلد هشتم دشمن ہے ۔ تم سب مل کر جو مجھ پر حملہ کرو خدا کا غضب اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ پھر اس کے غضب سے کون بچا سکتا ہے۔ وعیدی پیشگوئی مل سکتی ہے۔ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں یہ کتہ بھی یاد رکھنے کے اہے قابل ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں بعض پوری کر دے گا۔ مگل نہیں کہا۔ اس میں حکمت کیا ہے؟ حکمت یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں مشروط ہوتی ہیں ۔ وہ تو بہ، استغفار اور رجوع الی الحق سے مل بھی جایا کرتی ہیں ۔ پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وعدہ کی جیسے فرمایا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ (النور : ۵۲) اہل سنت مانتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئیوں میں تخلف نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کریم ہے۔ لیکن وعید کی پیشگوئیوں میں وہ ڈرا کر بخش ا وہ ڈرا کر بخش بھی دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم ہے۔ بڑا نادان اور اسلام سے دُور پڑا ہوا ہے وہ شخص جو کہتا ہے وعید کی سب پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ وہ قرآن کریم کو چھوڑتا ہے۔ اس لئے کہ قرآن شریف تو کہتا ہے يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمُ (المؤمن : ۲۹) ۔ افسوس ہے بہت سے لوگ مولوی کہلاتے ہیں مگر انہیں نہ قرآن کی خبر ہے نہ حدیث کی نہ سنت انبیاء کی ۔ صرف بغض کی جھاگ ہوتی ہے۔ اس لئے وہ دھوکہ دیتے ہیں ۔ یا د رکھو الْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وفی ۔ رحیم کا تقاضا یہی ہے کہ قابل سزا ٹھیرا کر معاف کر دیتا ہے اور یہ تو انسان کی بھی فطرت میں ہے کہ وہ معاف کر دیتا ہے۔ ایک مرتبہ میرے سامنے ایک شخص نے بناوٹی شہادت دی۔ اس پر جرم ثابت تھا وہ مقدمہ ایک انگریز کے پاس تھا۔ اُسے اتفاقاً چٹھی آگئی کہ کسی دُور دراز جگہ پر اس کی تبدیلی ہو گئی ہے ۔ وہ غمگین ہوا۔ جو مجرم تھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔ منشی سے کہا کہ یہ تو قید خانہ ہی میں مر جاوے گا۔ اس نے بھی کہا کہ حضور بال بچہ دار ہے۔ اس پر وہ انگریز بولا کہ اب مثل مرتب ہو چکی ہے۔ اب ہو کیا سکتا ہے۔ پھر کہا کہ اچھا اس مثل کو چاک کر دو ۔ اب غور کرو کہ انگریز کو تو رحم آ سکتا ہے خدا کو نہیں آتا؟ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ صدقہ اور خیرات کیوں جاری ہے اور ہر قوم میں اس کا رواج ہے۔ فطرتاً انسان مصیبت اور بلا کے وقت صدقہ دینا چاہتا ہے اور خیرات کرتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ