ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 80

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۰ جلد هشتم میں یہ آیت موجود ہے۔ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج: ۴۰) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اُس وقت دیا گیا جبکہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہو گئی تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔ اُس وقت کی یہ اجازت تھی دوسرے وقت کے لیے یہ حکم نہ تھا۔ چنانچہ مسیح موعود کے لئے یہ نشان قرار دیا گیا۔ يَضَعُ الْحَرْبَ - اب یہ تو اُس کی سچائی کا نشان ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں مخالفوں نے بھی مذہبی لڑائیاں چھوڑ دیں ۔ ہاں اس مقابلہ نے ایک صورت اور رنگ اختیار کر لیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ قلم سے کام لے کر اسلام پر اعتراض کر رہے ہیں۔ عیسائی ہیں کہ ان کا ایک ایک پرچہ پچاس پچاس ہزار نکلتا ہے اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے بیزار ہو جائیں ۔ پس اس کے مقابلہ کے لئے ہمیں قلم سے کام لینا چاہیے یا تیر چلانے چاہئیں؟ اس وقت تو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو اُس سے بڑھ کر احمق اور اسلام کا دشمن کون ہوگا ؟ اس قسم کا نام لینا اسلام کو بدنام کرنا ہے یا کچھ اور؟ جب ہمارے مخالف اس قسم کی سعی نہیں کرتے حالانکہ وہ حق پر نہیں اور پھر کیسا تعجب اور افسوس ہوگا اگر ہم حق پر ہو کر تلوار کا نام لیں ۔ اس وقت تم کسی کو تلوار دکھا کر کہو کہ مسلمان ہو جا ور نہ قتل کر دوں گا۔ پھر دیکھو نتیجہ کیا ہوگا وہ پولیس میں گرفتار کرا کے تلوار کا مزہ چکھا دے گا۔ یہ خیالات سراسر بیہودہ ہیں ان کو سروں سے نکال دینا چاہیے۔ اب وقت آیا ہے کہ اسلام کا روشن اور درخشاں چہرہ دکھا یا جاوے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ تمام اعتراضوں کو دور کر دیا جاوے اور جو اسلام کے نورانی چہرہ پر داغ لگایا گیا ہے اسے دور کر کے دکھا یا جاوے۔ میں یہ بھی افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے جو موقعہ خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور عیسائی مذہب کے اسلام میں داخل کرنے کے لئے جو راستہ کھولا گیا تھا اسے ہی بری نظر سے دیکھا اور اس کا کفر کیا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں میں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ پورے طور پر اس طریق کو پیش کیا ہے جو اسلام کو کامیاب اور دوسرے مذاہب پر غالب کرنے والا ہے۔ میرے رسائل امریکہ اور یورپ میں جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اس قوم کو جو فراست دی ہے۔