ملفوظات (جلد 8) — Page 69
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۹ جلد هشتم سے دریغ نہ کیا۔ جنہوں نے وطن چھوڑا، خویش واقارب چھوڑے اور اس کے لئے ہر قسم کی تکلیفوں اور مشکلات کو اپنے لئے راحت جان سمجھا۔ ایک ذرا سے فکر اور توجہ سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ جس قدر بھی دکھ اور تکلیف انہیں اس خیال کے تصور سے ہو سکتا ہے اس کا اندازہ اور قیاس ہم نہیں کر سکتے ۔ ان کی تسلی اور تسکین کا موجب یہی آیت تھی کہ حضرت ابوبکر نے پڑھی ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے ایسے نازک وقت میں صحابہ کو سنبھالا ۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض نادان اپنی جلد بازی اور شتاب کاری کی وجہ سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آیت تو بیشک حضرت ابوبکر نے پڑھی لیکن حضرت عیسی علیہ السلام اس سے باہر رہ جاتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ایسے نادانوں کو میں کیا کہوں ۔ وہ باوجود مولوی کہلانے کے ایسی بے ہودہ باتیں پیش کر دیتے ہیں وہ نہیں بتاتے کہ اس آیت میں وہ کونسا لفظ ہے جو حضرت عیسیٰ کو الگ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تو کوئی امر قابلِ بحث اس میں چھوڑا ہی نہیں ۔ قَدْ خَلَتْ کے معنے خود ہی کر دی أَفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ ( ال عمران: ۱۴۵) اگر کوئی تیسری شق بھی اس کے سوا ہوتی تو کیوں نہ کہہ دیتا أَوْ رُفِعَ بِجَسَدِهِ الْعَنْصُرِي إِلَى السَّمَاءِ - کیا خدا تعالیٰ اس کو بھول گیا تھا جو یہ یاد دلاتے ہیں؟ نعوذ باللہ من ذالک اگر صرف یہی آیت ہوتی تب بھی کافی تھی ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو انہیں ایسی محبوب اور پیاری تھی کہ اب تک آپ کی وفات کا ذکر کر کے یہ لوگ بھی روتے ہیں۔ پھر صحابہ کے لیے تو اور بھی درد اور رقت اس وقت پیدا ہو گئی تھی۔ میرے نزد یک مومن وہی ہوتا ہے جو آپ کی اتباع کرتا ہے اور وہی کسی مقام پر پہنچتا ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : (۳۲) یعنی کہہ دو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کو محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو تا کہ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنالے۔ اب محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کے فعل کے ساتھ خاص موانست ہو۔ اور مرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ نے مر کر دکھا دیا۔ پھر کون ہے جو زندہ رہے یا زندہ رہنے کی آرزو کرے یا کسی اور کے لیے تجویز کرے کہ وہ زندہ رہے؟