ملفوظات (جلد 8) — Page 63
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۳ جلد هشتم مخالفت یہ لوگ کریں گے مگر کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ کیا مجھ سے پیشتر راستبازوں اور خدا کے ماموروں کو رد نہیں کیا گیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فرعون اور فرعونیوں نے ۔ حضرت مسیح علیہ السلام پر فقیہوں نے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مشرکین مکہ نے کیا کیا حملے نہیں کئے مگر ان حملوں کا انجام کیا ہوا ؟ ان مخالفوں نے ان نشانات کے مقابلہ میں کبھی کوئی نظیر پیش کی؟ کبھی نہیں ۔ نظیر پیش کرنے سے تو ہمیشہ نہ عاجز رہے۔ ہاں زبانیں چلتی تھیں اس لئے وہ کذاب کہتے رہے۔ اسی طرح پر یہاں بھی جب عاجز آگئے تو اور تو کچھ نہ پیش گئی دجال کذاب کہہ دیا ۔ مگر ان منہ کی پھونکوں سے کیا یہ خدا تعالیٰ کے نور بجھا دیں گے؟ کبھی نہیں بجھا سکتے ۔ وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ (الصف: 9) دوسرے خوارق اور نشانات کو وہ لوگ جو بدطنی کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں کہہ دیتے ہیں کہ شاید دست بازی ہو مگر پیشگوئی میں انہیں کوئی عذر اور باقی نہیں رہتا اس لئے نشانات نبوت میں عظیم الشان نشان اور معجزہ پیشگوئیوں کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ امر توریت سے بھی ثابت ہے اور قرآن مجید سے بھی ۔ پیشگوئیوں کے برابر کوئی معجزہ نہیں ۔ اس لئے خدا تعالیٰ کے ماموروں کو ان کی پیشگوئیوں سے شناخت کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نشان مقرر کر دیا ہے لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ (الجن : ۲۸،۲۷) یعنی اللہ تعالیٰ کے غیب کا کسی پر ظہور نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں پر ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی یادر ہے کہ بعض پیشگوئیاں باریک اسرار اپنے اندر رکھتی ہیں اور دقیق امور کی وجہ سے ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں جو دور بین آنکھیں نہیں رکھتے اور موٹی موٹی باتوں کو صرف سمجھ سکتے ہیں۔ ایسی ہی پیشگوئیوں پر عموماً تکذیب ہوتی ہے اور جلد باز اور شتاب کار کہہ اُٹھتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا (یوسف:111) ان پیشگوئیوں میں لوگ شبہات پیدا کرتے ہیں ۔ مگر فی الحقیقت وہ پیشگوئیاں خدا تعالیٰ کے سُنن کے ماتحت پوری ہو جاتی ہیں۔ تاہم اگر وہ سمجھ میں نہ بھی آئیں تو مومن اور خدا ترس انسان کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان پیشگوئیوں پر نظر کرے جن میں دقائق نہیں ۔ یعنی جو موٹی موٹی پیشگوئیاں ہیں۔ پھر دیکھے کہ وہ کس قدر