ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 52

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲ جلد هشتم کے برخلاف کام کرتا ہے۔ میں نے کہا یہ سنت ہے کہ پیالی دائیں ہاتھ سے پکڑی جائے مگر کیا یہ سنت نہیں کہ لا تقف - لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسراءیل : ۳۷) جس بات کا تجھے علم نہیں اس کے متعلق اپنی زبان نہ کھول ۔ کیا آپ لوگوں کو مناسب نہ تھا کہ مجھ پر حسن ظن کرتے اور خاموش رہتے ۔ یا یہ نہیں ہو سکتا تھا تو اعتراض کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ ہی لیتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ پھر میں نے بتلایا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دائیں بازو کی ہڈی بچپن سے ٹوٹی ہوئی ہے اور پیالی پکڑ کر میں ہاتھ کو اوپر نہیں اٹھا سکتا۔ جب یہ بات انہیں بتلائی گئی تب وہ سن کر شرمندہ ہو گئے ۔ اے ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۵ء (بمقام دیلی) او جو وفات مسیح کے متعلق ایک جامع تحریر و تحریر حضرت نے مولوی صاحبان کوکھ کردی تھی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اس کی نقل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وجوہ مفصلہ ذیل ہیں جن کے رو سے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ قرار دیتا ہوں ۔ (۱) قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ آیات ہیں يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى (ال عمران : ۵۶) فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ( المائدة : ۱۱۸) ان آیات کے معنی صحیح بخاری کتاب التفسیر میں موت لکھے ہیں جیسا کہ اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے لکھا ہے مُتَوَفِّيكَ مُمِيتُك اور پھر تظاہر آیات کے لیے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا اس جگہ ذکر کیا ہے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بھی ذکر کیا ہے کہ میں قیامت کے دن یہی عرض کروں گا کہ یہ لوگ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں جیسا کہ لکھا ہے گمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ۔۔۔۔۔ الخ (۲) دوسری دلیل توفی کے ان معنوں پر جو اوپر ذکر کئے گئے لغت عرب کی کتابیں ہیں ۔ ۱ بدر جلد نمبر ۳۶ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷۶