ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 48

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ کھانا پینا حرام ہے جب تک اس پہلو کو پیش نہ کرلے ۔ جلد هشتم اے مسلمانو ! سو چو اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گیا۔ کیا تمہارا پیارا نبی فوت نہیں ہو گیا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے نام پر تمہیں غصہ نہیں آتا۔ عیسیٰ کی وفات کا نام سن کر تمہیں کیوں غصہ آتا ہے؟ میرا مطلب نفسانیت کا نہیں۔ میں کوئی شہرت نہیں چاہتا۔ میں تو صرف اسلام کی ترقی چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے دل کو خوب جانتا ہے۔ اسی نے میرے دل میں یہ جوش ڈال دیا۔ میں اپنی طرف سے بات نہیں کہتا۔ پچیس برس سے خدا تعالیٰ کا الہام مجھ سے یہ بات کہلا رہا ہے۔ اسی زمانہ کا یہ الہام ہے الرَّحْمنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ خدا چاہتا ہے کہ مجرم علیحدہ ہو جائیں اور راستباز علیحدہ ہوجائیں۔ میرے پر حملہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔ بصیرت والا اپنی بصیرت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی صادق طالب حق ہے تو میرے پاس آوے۔ میں تازہ تر نشان دکھاؤں گا۔ کیا میں اس قدر یقین کو ترک کر کے تمہاری ظنی باتوں کے پیچھے پڑ جاؤں ۔ جس شخص کو خدا نے بصیرت دی ، نشانوں کے ساتھ اپنے مخاطبات اور مکالمات کے ساتھ اس کی صداقت پر مہر لگا دی وہ تمہاری خیالی باتوں کو کیا کرے؟ اگر تم اس قدر باتوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لا سکتے تو اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (الانعام:۳۶) تم اپنی جگہ اپنا کام کرو میں اپنا کام کرتا ہوں۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سچا کون ہے۔' ۲۸ اکتوبر ۱۹۰۵ء (بمقام دیلی) دہلی کے اردگرد بہت سی ویران مساجد کا تذکرہ تھا۔ ویران مساجد حضرت نے فرمایا۔ ان کا مرمت کرانا کچھ مشکل امر نہ تھا۔ اگر لوگ چاہتے تو کر لیتے مگر جب خدا تعالیٰ کسی امر سے توجہ کو ہٹا دیتا ہے تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں لے بدر جلد نمبر ۳۶ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۳ تا ۵