ملفوظات (جلد 8) — Page 44
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴ جلد هشتم ایمان نہیں لاتے ۔ ورنہ در اصل ایمان نہیں ۔ ایک خدا اور اس کے رسول کا موعود اپنے وقت پر آیا۔ صدی کے سر پر آیا نشانات لایا۔ عین ضرورت کے وقت آیا۔ اپنے دعوی کے دلائل صحیح اور قوی رکھتا ہے۔ ایسے شخص کا انکار کیا ایک مومن کا کام ہے؟ یہودی موحد کہلاتے تھے۔ اب تک ان کا دعوی ہے کہ ہم توحید پر قائم ہیں۔ نماز پڑھتے ، روزہ رکھتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانتے۔ اسی سبب کافر ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ کے ایک حکم فرمودہ رسول کی ایک بات کا بھی جو شخص انکار کرتا ہے اور اس کے مخالف ضد کرتا رتا ہے وہ کافر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ان لوگوں کی غلطی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نماز روزہ ادا کرتے ہیں اور تمام اعمال حسنہ بجالاتے ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے؟ یہ نہیں جانتے کہ اعمال حسنہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتی ہے۔ ہر قسم کے شرک انفسی آفاقی کا نکالنا خلوص لذت اور احسان کے ساتھ عبادت کا بجالانا یہ کوئی اختیاری بات نہیں ہے۔ اس کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہایت ہی ضروری ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کے محبوب بن جائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو ۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ نیک اعمال کی توفیق فضل الہی پر موقوف ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو اندر کی آلودگیاں دور نہیں ہوسکتیں ۔ جب کوئی شخص نہایت درجہ کے صدق اور اخلاص کو اختیار کرتا ہے تو ایک طاقت آسمانی اس کے واسطے نازل ہوتی ہے۔ اگر انسان سب کچھ خود کر سکتا تو دعاؤں کی ضرورت نہ ہوتی ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں اس شخص کو راہ دکھاؤں گا جو میرے راہ میں مجاہدہ کرے۔ یہ ایک بار یک رمز ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم سب اندھے ہو مگر وہ جس کو خدا آنکھیں دے۔ اور تم سب مردے ہو مگر وہ جس کو خدا زندگی دے۔ دیکھو! یہودیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ مثل گدھوں کے ہیں جن پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ ایسا علم انسان کو کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ جب تک دل آراستہ نہ ہو ہدایت اور سکینت نازل نہیں ہوتی ۔ شیطان سے مناسبت آسان ہے مگر ملائک سے مناسبت مشکل ہے کیونکہ اس میں اوپر کو چڑھنا ہے اور اُس میں نیچے گرنا ہے۔ نیچے گرنا آسان ہے مگر اوپر چڑھنا بہت مشکل ہے۔ یہ مقام تب حاصل ہو سکتا ہے کہ انسان در حقیقت پاک ہو کر محبت الہی کو اپنے اندر داخل کر لیتا ہے۔ لیکن اگر یہ امر آسان