ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 30

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد هشتم ہیں ۔ مگر یہ بات ایمان کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ ایک شخص کے اپنے دل میں ہزار گند ہوتا ہے۔ پھر خدا پر شک لاتا ہے اور چاہتا ہے کہ مومنوں کا حصہ مجھے بھی ملے ۔ جب تک انسان پہلی زندگی کو ذبح نہ کر دے اور محسوس نہ کرلے کہ نفس امارہ کی خواہش مرگئی ہے اور خدا کی عظمت دل میں بیٹھ نہ جائے تب تک مومن نہیں ہوتا ۔ اگر مومن کو خاص امتیاز نہ بخشا جائے تو مومنوں کے واسطے جو وعدے ہیں وہ کیونکر پورے ہوں گے لیکن جب تک دورنگی اور منافقت ہو تب تک انسان کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ (النساء : ۱۴۶) اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایک ایسی جماعت بنائے گا جو ہر جہت میں سب پر فوقیت رکھے گی ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کا فضل کرے گا۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے نفس کا تزکیہ کرے۔ ہاں کمزوری میں اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے۔ جو شخص کمزور ہے اور ہاتھ اٹھاتا ہے کہ کوئی اس کو پکڑے اور اٹھائے اس کو اٹھایا جائے گا۔ مگر مومن کو چاہیے کہ اپنی حالت پر فارغ نہ بیٹھے ۔ اس سے خدا راضی نہیں ہے۔ ہر طرح سے کوشش کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے جو سامان ہیں وہ سب مہیا کئے جائیں ۔ ریا کار انسان بے فائدہ کام کرتا ہے۔ مومن کو تو خداوند تعالی خود بخود شہرت دیتا ریا کاری ہے۔ ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھا کرتا تھا تا کہ لوگ اسے نیک کہیں۔ لیکن جب وہ بازار سے گذرتا تو لڑ کے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے اور کہتے کہ یہ ایک ریا کار آدمی ہے جو دکھلاوے کی نمازیں پڑھتا ہے ۔ ایک دن اس شخص کو خیال ہوا کہ میں لوگوں کا کیوں خیال رکھتا ہوں اور بے فائدہ محنت اٹھاتا ہوں۔ مجھے چاہیے کہ اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤں اور خالص خدا کی خاطر عبادت کروں۔ یہ بات سوچ کر اس نے سچی توبہ کی اور اپنے اعمال کو خدا کے واسطے خاص کر دیا اور دنیوی رنگ کی نمازیں چھوڑ دیں اور علیحدگی میں بیٹھ کر دعا ئیں کرنے لگا اور اپنی عبادت کو پوشیدہ رکھنا چاہا۔ تب وہ جس کو چہ سے گذرتا لوگ اس کی طرف اشارہ کرتے کہ یہ ایک نیک بخت آدمی ہے۔