ملفوظات (جلد 8) — Page 28
ملفوظات حضرت مسیح موعود کریں گے۔ ۲۸ جلد هشتم راستہ میں مذبح کے پاس سے گزرے۔ کثیر التعداد بھیڑیں اور بکریاں ذبح ہو رہی تھیں اور سینکڑوں کا باہر ریوڑ کھڑا تھا۔ ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کھانے کی حلال اشیاء کا کس قدر ذخیرہ اللہ تعالیٰ نے جمع کر دیا ہے برخلاف اس کے حرام چیزیں مثلاً کتے وغیرہ بہت ہی کم پائے جاتے ہیں ۔ فرمایا۔ اس شہر میں اس قدر انقلاب آئے ہیں کہ شاید کسی دوسرے شہر پر یہ حالات وارد ہوئے ہوں۔ کئی دفعہ یہ شہر آباد ہوا اور کئی دفعہ خاک میں مل گیا۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مخاطب تھے اور ان کی رخصت کے قریب الاختتام ہونے کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ دو دن اور ہیں ۔ یہ موقعہ غنیمت سمجھنا چاہیے۔ خدا کے فضل سے ایسا موقع ہاتھ آ سکتا یہ نہ سمجھو کہ رخصت لینے سے ایسا موقعہ مل جاتا ہے۔ کئی آدمی ایسے بھی ہیں جو نو کر نہیں مگر ان کو ہے۔ یہ نہ او ہمارے پاس رہنے کا موقعہ نہیں ملتا۔ فارغ البالی ہوتی ہے پر صحبت نصیب نہیں ہوتی ۔ اے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں کہ مسیح کی وفات کو ثابت جماعت احمد یہ کے قیام کا مقصد کرایا ۔ اللہ کرنے والی ایک جماعت پیدا ہو جائے۔ یہ بات تو پا ان مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے درمیان آگئی ہے۔ ورنہ اس کی تو کوئی ضرورت ہی نہ تھی ۔ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا تو یہ ہے کہ ایک پاک دل جماعت مثل صحابہؓ کے بن جاوے ۔ وفات مسیح کا معاملہ تو جملہ معترضہ کی مانند در میان آگیا ہے۔ مولوی لوگوں نے خواہ مخواہ اپنی ٹانگ درمیان میں اڑالی۔ ان لوگوں کو مناسب نہ تھا کہ اس معاملہ میں دلیری کرتے۔ قولِ خدا رؤیتِ نبی اور اجماع صحابہ یہ تین باتیں ان کے واسطے کافی تھیں ۔ ہمیں تو افسوس آتا ہے کہ اس کا ذکر ہمیں خواہ مخواہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمارا اصلی امرا بھی دیگر ہے۔ یہ تو صرف خس و خاشاک کو درمیان میں سے اٹھایا گیا ہے۔ سوچو کہ جو شخص دنیا داری میں غرق ہے اور دین کی پروا نہیں رکھتا اگر تم لوگ بیعت کرنے کے بعد ویسے ہی رہو تو پھر تو ۱ بدر جلد ا نمبر ۳۳ مورخه ۶ رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۲،۱