ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 304

ملفوظات حضرت مسیح موعود لله ولد جلد هشتم عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاتھ میں پہنچ چکیں تو اس وقت نمودار ہوئی ۔ اس پر مخالف عیسائی بھی آج تک حیران ہیں کہ یہ کیا بات تھی کہ اتنی صدیوں کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ایسی صراحت کے ساتھ پوری ہوگئی ۔ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کا ذکر تھا۔ فرمایا کہ مولوی عبداللہ غزنوی وہ اچھے آدمی تھے۔ مرد صالح تھے۔ خدا نے ان کو ہمارے دھوئی کے زمانہ سے پہلے ہی اٹھا لیا تاکہ وہ کسی ابتلا میں نہ پڑیں ۔ میں نے ان کو خواب میں بھی دیکھا تھا۔ انہوں نے میری تصدیق کی اور کہا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں ایسے آدمی کے پیدا ہونے کا منتظر تھا۔ گذشتہ اکابر قابل مواخذہ نہیں ہوں گے فرمایا۔ گذشتہ بزرگ جو گذر چکے ہیں اگر انہوں نے مسئلہ وفات مسیح کو نہ سمجھا ہو اور اس میں غلطی کھائی ہو تو اس سبب سے ان پر مواخذہ نہیں کیونکہ ان کے سامنے یہ بات کی بات کھول کر بیان نہیں کی گئی تھی اور یہ مسائل ان کے راہ میں نہ تھے ۔ انہوں نے اپنی طرف سے تقوی وطہارت میں حتی الوسع کوشش کی ۔ ان لوگوں کی مثال ان یہودی فقہاء کے ساتھ دی جاسکتی ہے جو کہ بنی اسرائیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے گزر چکے تھے اور ان کا عقیدہ پختہ تھا کہ آخری نبی جو آنے والا ہے وہ حضرت اسحق کی اولاد میں سے ہوگا اور اسرائیلی ہو گا وہ مر گئے اور بہشت میں گئے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ مسئلہ روشن ہو گیا کہ آنے والا آخری نبی بنی اسمعیل میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تب بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے وہ کا فر قرار دیئے گئے اور لعنتی ہوئے اور آج تک ذلیل اور خوار اور در بدر مصیبت زدہ ہو کر پھر رہے ہیں ۔ سلطان روم کا کچھ ذکر تھا۔ سلطنت عثمانیہ مانیہ فرمایا۔ ان لوگوں میں روحانیت نہیں معلوم ہوتی ورنہ وہ یورپ کے محتاج نہ