ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 302

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۲ جلد هشتم کا ذب تھے ۔ اس واسطے وہ ہر دو ہلاک ہو گئے ۔ غلام دستگیر نے بھی اسی طرح مباہلہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ میں وہی دعا کرتا ہوں جو کہ محمد طاہر نے کی تھی چونکہ اس کے مقابل میں جو شخص تھا وہ سچا ہے اس واسطے غلام دستگیر خود ہلاک ہوگا لاک ہو گیا۔ بلا تاریخ کے نماز تراویح اکمل صاحب آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرت سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔ لیکن عموماً محنتی مزدور زمیندار لوگ جو ایسے اعمال کے بجالانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اول شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھا دیا جاوے تو کیا یہ جائز ہوگا ؟ حضرت نے جواب میں فرمایا۔ کچھ ہرج نہیں پڑھ لیں ۔ تو گل علی اللہ کسی دشمن کا ذکرتھا کہ وہ شرکرے گا اورحضور کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ فرمایا۔ ہم اس بات سے کب ڈرتے ہیں وہ بے شک کرے بلکہ ہم خوش ہیں کہ وہ ایسا کرے کیونکہ ایسے ہی موقع پر اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے نشانات دکھلاتا ہے ہم خوب دیکھ چکے ہیں کہ جب کبھی کسی دشمن نے ہمارے ساتھ بدی کے واسطے منصوبہ کیا خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اس میں سے ایک نشان ہماری تائید میں ظاہر فرمایا۔ ہمارا بھروسہ خدا پر ہے انسان کچھ چیز نہیں۔ با وانا تک مسلمان تھے ایک سکھ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بادو صاحب کا ذکر آیا۔ حضرت نے فرمایا کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور نماز پڑھتے تھے ۔ سکھ لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں جو اپنے گرو کے مذہب کو چھوڑ کر بے ہودہ باتوں کے پیچھے پڑ ل بدر جلد ۲ نمبر ۳۹ مورخه ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۴ غالباً اکتوبر ۱۹۰۶ء کے پہلے ہفتہ کی یہ ڈائری ہے۔ (مرتب)