ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 300

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳ ستمبر ۱۹۰۶ء جلد هشتم آریوں کا ذکر تھا کہ اب تو آریہ صاحبان خود ہی اقرار کرنے آریہ مت کی موت کا سب کہتے ہیں کہ آریہ مذہب مردہ مذہب ہے اور ایک سوسال یک بالکل نیست و نابود ہو جائے گا۔ جب حضور نے پیشگوئی کی تھی کہ آریہ مذہب ایک سوسال تک دنیا سے مفقود ہو جائے گا تو اس وقت آریوں نے بڑا شور مچایا تھا کہ یہ مذہب ہمیشہ قائم رہے گا مرزا صاحب نے غلط کہا ہے۔ اب تعجب ہے کہ وہی آریہ صاحبان خود ہی اپنے لیکچروں اور رسالوں میں بیان فرماتے ہیں کہ آریہ مذہب مردہ ہے۔ حضور کی پیشگوئی آریہ مذہب کے متعلق فروری ۱۹۰۳ء میں جب شائع ہوئی تھی کہ ایک صدی نہ گزرے گی جو اس مذہب پر موت وارد ہو جائے گی تو اس وقت پنڈت رام بھیجدت نے بڑے زور سے اس کی مخالفت کی تھی اور خود قادیان میں آکر اپنے لیکچر میں اس پیشگوئی کا ذکر کیا تھا۔ اب وہی پنڈت رام بھجرت صاحب ہیں جنہوں نے الرستمبر کے اخبار پر کاش میں فرمایا ہے کہ موجودہ آریہ سماج کبھی بھی سو برس سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ نیست و نابود ہو جاوے گا اور اس کے علاوہ نئے آریہ دھرم پال صاحب نے اپنے رسالہ اندر میں آریہ سماج کی موت پر ایک مضمون لکھ دیا ہے۔ غالباً مؤخر الذکر صاحب اسی واسطے آریہ بنے تھے کہ آریہ مت کی موت کو ثابت کرنے میں جلدی کریں۔ غرض یہ ذکر تھا جس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی مذہب ہو خواہ قوم ہو خواہ جماعت ہو بغیر روحانیت کے کوئی قائم نہیں رہ سکتا۔ جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پختہ نہ ہو کوئی مذہب دنیا میں کس طرح ٹھہر سکتا ہے چونکہ آریہ مذہب میں روحانیت نہیں ہے اس واسطے اس کا قیام محال ہے۔ سارے انبیاء صرف خدا کو جانتے تھے۔ برخلاف اس کے ان کے پیٹ ہزاروں فریبوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ان میں روحانیت کا کوئی حصہ نہیں۔ خدا کی قدرت ہے کہ جس قدر انبیاء دنیا میں آئے وہ دنیاوی معاملات میں ایسے تھے کہ ان کو