ملفوظات (جلد 8) — Page 272
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۲ جلد هشتم انسان خدا کی طرف اپنا دل لگاتا ہے۔ لمبے منصوبے اور ناجائز کارروائیاں انسان اسی واسطے کرتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ زندگی کے ایام کتنے ہیں ۔ جب انسان جان لیتا ہے کہ موت اس کے آگے کھڑی ہے تو پھر وہ گناہ کے کاموں سے رک جاتا ہے۔ خدا رسیدہ لوگوں کو ہر روز اپنے اور اپنے دوستوں کے متعلق معلوم ہوتا رہتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ اس واسطے وہ دنیا کی باتوں پر خوش نہیں ہو سکتے اور نہ ان پر تسلی پکڑ سکتے ہیں۔ دیکھو! اس وقت ملک میں طاعون پھیلی ہوئی ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کے متعلق ایسے وقت میں اطلاع دی تھی جبکہ یہاں طاعون کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اسی وقت میں نے لوگوں کو اس کے متعلق اطلاع کر دی تھی۔ یاد رکھو! جب غفلت اور دنیا پرستی بہت بڑھ جاتی ہے تو پھر تباہیوں کے آنے کا وقت ہوتا ہے۔ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ جب تک یہ لوگ شرارت کو نہ چھوڑ دیں گے اور اپنی اصلاح نہ کریں گے اور اپنے اخلاق درست نہ کر لیں گے تب تک یہ بیماری ملک سے دور نہ ہوگی ۔ ایسا ہی دوسری بلا زلزلہ کی ہے ۔ ہمارے ملک کے لوگ اس قسم کے خوفناک زلزلوں سے کبھی آگاہ نہ تھے۔ کبھی اتفاقی کوئی زلزلہ آ جاتا تھا۔ لیکن اب نہایت خوفناک زلزلے آتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار اطلاع دی ہے کہ ہنوز ایک سخت تباہ کن زلزلہ آنے والا ہے۔ جس سے یہ مطلب ہے کہ لوگ کسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ وہ رب جس نے پیدا کیا ہے اس کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔ جب انسان خدا کی طرف جھکتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔اس کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے اور خوفناک صدموں کے وقت وہ بچایا جاتا ہے۔ بدطنی سارے گناہوں کی جڑ بدظنی ہے ۔ لکھا ہے جب کافر لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں کہا جائے گا کہ یہ تمہاری بدظنی کا نتیجہ ہے۔ خدا کا رسول تمہارے پاس آیا اس نے تمہیں نیکی کی بات سکھائی تو بہ اور استغفار کا سبق دیا پر تم نے اس کی مخالفت کی ۔ اور اس پر بدظنی کر کے کہا کہ تجھے خدا کی طرف سے کوئی الہام نہیں ہوتا تو سب باتیں اپنے پاس سے بنا کر کہتا ہے۔ دیکھو! ہم خدا سے خبر پا کر مخلوق کو اطلاع دیتے ہیں کہ ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے۔ تم نیکی