ملفوظات (جلد 8) — Page 248
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۸ جلد هشتم ۲۶ را پریل ۱۹۰۶ ء فرمایا۔ یہ دن ایسے ہیں کہ گویا آسمان کی زمین کے ساتھ کشتی ہے۔ بالکل غیر معمولی ایام غیر معمولی دن یں اور غیر معمولی واقعات ہرطرف سے پیش آرہے ہیں اور اپنے غیر معمولی ہونے میں روز بروز بڑھتے جاتے ہیں ۔ کہیں زلازل ہیں کہیں طوفان آرہے ہیں۔ کہیں لڑائیوں میں مخلوق ماری جاتی ہے کہیں طوفان سے لوگ تباہ ہو رہے ہیں کہیں آگ لگ رہی ہے۔۔ سوئے ہوئے مگر افسوس کہ لوگ ان سب باتوں کو معمولی سمجھ کر اپنی غفلت میں حسب معمول سوئے ہیں اور کچھ فکر نہیں کرتے۔ خدا تعالیٰ کا منشا اور ہے اور لوگوں کے ارادے کچھ اور ہیں ۔ راستباز اطاعت اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ جس صورت میں ہم ان لوگوں کے سامنے نشان پیش کرتے ہیں اور قرآن اور حدیث کے نصوص دکھاتے ہیں اور پھر وہ انکار کرتے ہیں تو وہ لوگ راستباز نہیں کہلا سکتے ۔ خدا کو کیا پروا ہے کہ یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہیں اللہ تعالیٰ کثرت اور تعداد کے رعب میں نہیں آتا قَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (سبا: (۱۴) دیکھو ! حضرت نوح کے وقت کس قدر مخلوق غرق آب ہوئی اور ان کے بالمقابل جو لوگ بچ گئے ان کی تعداد کس قدر تھی ۔ پیر زادگی کا مرض فرمایا۔ پیر زادگی کا مرض دق اور سل سے بدتر ہے کیونکہ ان میں رعونت اور تکبر کا مادہ ہوتا ہے اور خواہ مخواہ ایک عظمت اپنی دکھاتے ہیں اور فقیری کا دم مارتے رہتے ہیں ۔ ۵ رمتی ۱۹۰۶ء طبقه لولاک الهام الي لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفلاك کا تذکرہ تھا۔ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی کمال رضا جوئی کی حالت میں یہ طبقہ خدمت گذاران کا لولاک ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۶ را پریل ۱۹۰۶ ء صفحه ۲