ملفوظات (جلد 8) — Page 246
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۶ جلد بسته فاتحہ خوانی اور استقاط عرض کیا گیا کہ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے بعد جو فاتح خوانی کا مر اس دستور ہے اس کی شریعت میں کوئی اصل ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے نہ قرآن شریف میں نہ سنت میں ۔ عرض کیا گیا کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ دعائے مغفرت ہی ہے؟ فرمایا۔ نہ اسقاط درست نہ اس طریق سے دعا ہے کیونکہ بدعتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔' ۱۴ را پریل ۱۹۰۶ ء فرمایا۔ خدا تعالیٰ اپنے وجود کو آپ دوبارہ ثابت کرنا چاہتا ہے جیسا کہ طوری مشاہدات کوہ طور پر تجلیات الہیہ کانمونہ دکھایا گیا تھا ایسا ہی اب بھی دکھا یا جائے گا۔ جس طرح فرعون کے پاس رسول بھیجا گیا تھا وہی الفاظ ہم کو بھی الہام ہوئے ہیں کہ تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔ بجز طوری مشاہدات کے اب دنیا کے لوگ سیدھے نہیں ہو سکتے ۔ ۱۷ را پریل ۱۹۰۶ ء ان سنت الہی فرمایا۔ بعض لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے معجزات کے بارہ میں سنت الہی کا موجود مانگے ہوئے معجزات ان کو دکھائے جائیں۔ یہ درست نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ۔ جس حد تک خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تشفی دینے کا ہے اگر اس حد تک تشفی ہو جائے تو پھر مؤاخذہ کے لائق انسان ہو جاتا ہے۔ جماعت میں داخل ہونے والوں کی قبولیت فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ جو لوگ اس جماعت میں داخل ہوں ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۱۹ را پریل ۱۹۰۶ء صفحه ۳ بدر جلد ۲ نمبر ۷ ۱ مورخه ۲۶ را پریل ۱۹۰۶ء صفحه ۲