ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 242

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۲ جلد هشتم غور کرنے والے کے واسطے یہ ایک بڑا نشان ہے۔ ایک الزامی نکتہ فرمایا۔ عیسائیوں کے خدا سے تو آدم ہی اچھا رہا۔ کیونکہ آدم کے سامنے تو تو آدم فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور ایک شیطان جس نے سجدہ نہیں کیا تھا وہ ذلیل کیا گیا اور نکالا گیا۔ برخلاف اس کے عیسائیوں کا خدا شیطان کے پیچھے پیچھے لگتا پھرا اور شیطان کہہ اور سکتا ہے کہ چونکہ اس نے مجھے سجدہ نہیں کیا تھا اس واسطے ذلیل ہوا اور پھانسی دیا گیا۔ یسوع مسیح کا ایک کمزور انسان ہونا ثابت ہے فرمایا۔ عیسائی لوگ یسوع کی تعریف میں کہا کرتے ہیں کہ وہ بے گناہ تھا حالانکہ بے گناہ ہونا کوئی خوبی نہیں۔ خوبی تو اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلیٰ درجہ کے تعلقات ہوں اور انسان قرب الہی کو حاصل کرے ۔ چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ یسوع کی لوگ حد سے زیادہ نا جائز عزت کریں گے اس واسطے پہلے ہی سے اس کا وہ حال ہوا جس سے ہر بات میں اس کا عجز اور کمزور انسان ہونا ثابت ہوتا ہے۔ فرمایا۔ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا یہ قول کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة: ۱۱۸) معنی التوقف اس کے یہ معنے ہیں کہ جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا اگر قیامت کے دن حضرت عیسی یہ کلمہ بولے گا تو گویا وہ کبھی فوت ہی نہیں ہو گا ؟ کیونکہ قیامت کے دن بھی آسمان پر ہی جانے کا ذکر ہو گا مرنے کا تو کوئی ذکر ہی نہیں۔ اور اگر اس آیت کے یہ معنے لیے جائیں کہ جب میں فوت ہو گیا یعنی مر گیا۔ لیکن موت قیامت کے دن وارد ہوگی تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ عیسائی آج تک نہیں بگڑے اور ان کا مذہب راستی پر ہے۔ تسبیح بعد کی ایجاد ے ایک شخص نے ذکر کیا کہ مخالف کہتے ہیں کہ یہ لوگ نمازیں تو پڑھتے ہیں ۔ لیکن تسبیحیں نہیں رکھتے ۔ فرمایا۔ صحابہ کے درمیان کہاں تسبیحیں ہوتی تھیں یہ تو ان لوگوں نے بعد میں باتیں بنائی ہیں ۔ فرمایا۔ ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ لمبی تسبیح ہاتھ میں رکھا کرتا تھا اور کوچہ میں سے گذر رہا تھا۔ راستہ میں