ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 229

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۹ جلد هشتم ویدوں سے بھی پرانے ہیں اور ویدوں کی بعض باتیں اس سے ملتی بھی ہیں۔ اس لیے اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص وید کی باتوں پر عمل کرے۔ فلسفیانہ رنگ میں اس کو علم کی طرح حاصل کرے لیکن ویدوں کو الہامی کتاب نہ مانے اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعلق رکھے تو کیا وہ موکش کو حاصل کر سکتا ہے؟ جیسا کہ دنیوی علوم وفنون کے واسطے ضروری نہیں ہوتا کہ استاد کس مذہب کا ہو۔ ایک ہندو استاد ہو یا عیسائی ہو یا د ہر یہ ہو ۔ سب مدرسوں میں موجود ہوتے ہیں ۔ آریہ۔ ہاں موکش کے واسطے وید کو الہامی ماننا ضروری نہیں ۔ جو مثالیں آپ نے دی ہیں وہ درست ہیں اور جیسا کہ اقلیدس کی شکلیں ہیں ہر ایک اس کو سیکھ اور سکھا سکتا ہے۔ لیکن آریہ سماج ان شکلوں کو درست حالت میں رکھتی ہے باقیوں نے غلطیاں ملا دی ہیں ۔ اگر وید پر اسلام عمل کرے تو وہ اچھا ہے بہ نسبت اس ہندو کے جو نہیں کرتا۔ حضرت۔ ہمارا سوال تو صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی شخص وید کو خدا کا کلام نہیں مانتا مگر اس کی باتوں پر عمل کرتا ہے تو کیا وہ مکتی پائے گا یا نہیں؟ آریہ۔ بے شک مکتی پائے گا۔ لے ۱۱ جنوری ۱۹۰۶ء ار جنوری کی صبح کو حضرت مسیح بمعہ خدام سیر کرنے کے میت کے واسطے دعا اور صدقات واسطے باہر نکلے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی قبر پر تشریف لے گئے جہاں آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔ بعد دعا کے ایک شخص نے چند سوال کئے جو اس کالم میں درج کرنے کے لائق ہیں ۔ ۔ سوال۔ قبر پر کھڑے ہو کر کیا پڑھنا چاہیے؟ جواب ۔ میت کے واسطے دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس کے ان قصوروں اور گناہوں کو بخشے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه ۶