ملفوظات (جلد 8) — Page 226
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۶ جلد هشتم اعتراض عقلمندوں کا یہ ہوتا ہے کہ وہ مر گیا کام کیا کیا ؟ یہ مہذب لوگ کہتے ہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کیا تھا کہ کسر صلیب ہوگا اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا ۔ مگر اب خامی کی حالت میں چلے گئے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ پیشگوئی فرماتا ہے لَا نُبْقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا ۔ اور سچے آدمی کو غم بھی یہی ہوتا ہے۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ تیرے بوجھ کو جس نے تیری پیٹھ تو ڑ دی تھی اٹھا دیا۔ وہ یہی علت غائی کا بوجھ ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں بشارت دی ہے گویا اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اب سنو ! جبکہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے تو یہ ہو کر رہے گا۔ تمہیں مفت کا ثواب ہے۔ پس تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔ وہ قادر خدا جس نے پیدا کیا ہے دنیا اور آخرت کی مرادیں دے دے گا۔ لے دسمبر ۱۹۰۵ ء کا آخری ہفتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک آریہ سے گفتگو ہر سال دسمبر کے آخری ہفتہ میں احمدی احباب مختلف شہروں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور قادیان میں ایک جلسہ کا رنگ ہو جاتا ہے۔ اسی واسطے آریوں نے بھی چند سالوں سے قادیان میں سالانہ جلسہ کرنے کی تجویز کی ہوئی ہے۔ پہلے تو جھوٹی خبریں اڑایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب کے ساتھ مباحثہ ہوگا اس واسطے دور و نزدیک کے آریہ تماش بینی کے واسطے آجاتے تھے۔ مگر اب بھی خصوصاً ایسے آریہ مہاشے لیکچرار جمع ہو جاتے ہیں کہ اسلام کو گالیاں دینے میں خاص مشق اور ملکہ رکھتے ہیں۔ اس واسطے آریوں کو خوش ہو جانے کا کچھ سامان مل ہی جاتا ہے۔ ان باہر سے آنے والے آریوں میں سے ہر سال کوئی نہ کوئی جماعت ایسی بھی ہوتی ہے جو حضرت مسیح کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہے کہ ہم تو زیادہ تر آپ کے درشنوں کے واسطے آئے تھے اور ایسے لوگ عموماً نہایت ادب کے ساتھ بیٹھتے اور حضور کی باتیں سنتے ہیں ۔ چنانچہ اس دفعہ بھی جلسہ آریہ کی چند جماعتیں متفرق اوقات میں الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۳ تا ۵